امریکہ و لبیا: مکمل تعلقات کی بحالی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ لیبیا کو دہشتگردی کے مددگار ممالک کی فہرست سے خارج کر کے مکمل سفارتی تعلقات بحال کر رہا ہے۔ امریکہ اور لیبیا کے تعلقات 1980 سے خراب ہیں اور اس نے 1988 میں لیبیا پر میں لاکرابی بمباری میں ملوث ہونے کا الزام بھی لگایا تھا۔ امریکہ نے لیبیا پر عائد بہت سے اقتصادی پابندیاں اس وقت اٹھا لیں جب اس نے 2004 میں وسیع تباہی کے ہتھیار رکھنے کی مذمت کی۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈالیزا رائس کا کہنا ہے کہ لیبیا نے اس کے بعد سے مسلسل ان ہتھیاروں سے ’اپنی لاتعلقی اور مخالفت کے عزم کو برقرار رکھا ہے‘۔ مکمل سفارتی تعلقات کی بحالی کا اعلان کرتے ہوئے امریکی وزیرخارجہ نے دہشتگردی کے خلاف امریکہ کی جنگ میں لیبیا کے بہ مثال تعاون کی سراہا ہے۔ اب واشنگٹن لیبیا کےدارالحکومت تریپولی میں اپنے دفترِ تعلقات کو مکمل سفارتخانے کا درجہ دیدے گا۔ امریکی دفترِ خارجہ کے ایک سینئر اہلکار کا کہنا ہے کہ مکمل سفارتی تعلقات کی بحالی کا فیصلہ لیبیا کے رویّے اور کامیاب سفارت کاری بغور جائہ لینے کے بعد کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں لیبیا: پرتشدد مظاہروں کی ویڈیو18 February, 2006 | آس پاس کارٹون: لیبیا میں احتجاج، 10 ہلاک 17 February, 2006 | آس پاس طبی کارکنوں کی سزائے موت ختم25 December, 2005 | آس پاس قذافی کی بُش کو لیبیا آنے کی دعوت21 August, 2005 | آس پاس لیبیا:امریکی تیل کمپنی کی واپسی31 July, 2005 | آس پاس لیبیا: مشتبہ شخص مصر کے حوالے 08 May, 2005 | آس پاس ’صدر قدافی معافی مانگیں‘24 March, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||