کارٹون: لیبیا میں احتجاج، 10 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لیبیا کے شہر بن غازی میں اطالوی قونصل خانہ کے باہر ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں 10 افراد کی ہلاکتوں اور متعدد کے زخمی ہونے کے بعد لیبیا کے وزیر داخلہ کو معطل کر دیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والے افراد ڈنمارک اور دیگر یورپی اخباروں میں پیغمبرِ اسلام کے کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ اس واقعے کے بعد پارلیمان سیکریٹریٹ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ وزیرداخلہ نصر المبارک کو معطل کیا جارہا اور ان ہنگاموں کی تحقیقات کرائی جارہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی جس کے دوران پولیس اور مظاہرین کے مابین تصادم ہوا۔ اٹلی کے خبر رساں ادارے انسا کے مطابق تصادم کے دوران مظاہرین پر گولیاں چلائی گئیں جس کے نتیجے میں کم از کم دس افراد ہلاک ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق احتجاجی مظاہرین نے، جن کی تعداد سینکڑوں میں بتائی جاتی ہے، قونصل خانے کی عمارت کے قریب پارک کی گئی کاروں کے شیشے توڑ دیئے اور بعض کو آگ لگا دی۔ اطلاعات کے مطابق مظاہرین وزیر ربرٹو کالڈیرولی کے خلاف غم و غصے کا اظہار کر رہے تھے جنہوں نے توہین آمیز کارٹونوں سے چھپی ٹی شرٹ پہنی تھی۔ اٹلی کے وزیر اعظم سِلویو برلسکونی نے امیگریشن مخالف ناردرن لیگ پارٹی سے تعلق رکھنے والے ربرٹو کالڈیرولی سے کہا ہے وہ مستعفی ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پیغمبر اسلام کے توہین آمیز کارٹونوں سے مزین ٹی شرٹ پہننے کا اعلان کرنے سے پہلے وزیر موصوف کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ مظاہرین سے گھرے ہوئے قونصل خانے سے ٹیلی فون پر امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے اطالوی قونصل خانے کے اہلکار انٹونیو سِیموکونکالو نے کہا کہ ایک ہزار کے قریب احتجاجی مظاہرین نے عمارت کو گھیرا ہوا ہے۔ اہلکار کے مطابق لبیا کی پولیس نے فائرنگ اور آنسو گیس کے ذریعے مظاہرین کو عمارت کے قریب آنے سے روکنے کی کوشش کی ہے۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے نتیجے میں نو مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دیگر کئی زخمی ہوئے ہیں۔ ٹیلیوژن کی تصویروں میں اطالوی قونصل خانے کی عمارت سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھاۓ گۓ ہیں اور سڑکوں پر گاڑیاں جل رہی ہیں۔ اطالوی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ قونصل خانے کی عمارت کی پہلی منزل کو آگ لگا دی گئی ہے۔ لیبیا کے حکام نے ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی تعداد گیارہ بتائی ہے۔ لیبیا کی حکومت نے واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ |
اسی بارے میں ڈنمارک کے سفیر کی شام سے واپسی11 February, 2006 | آس پاس کارٹون کی اشاعت پر ایڈیٹر گرفتار12 February, 2006 | آس پاس کارٹون: بنگلہ دیش میں احتجاج 17 February, 2006 | آس پاس عاشور: کارٹونوں پر شدید احتجاج10 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||