جنگ عظیم کی جان لیوا سرنگیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لیبیا اور مصر کی سرحد پر صحرا میں جنگ عظیم دوئم میں ہلاک ہونے والے بیس ہزار اتحادی فوجیوں کے قبرستان میں خاموشی چھائی ہے۔ جنگ کی تلخ یادیں اپنی جگہ لیکن اس کے گھناؤنے اثرات اب بھی جاری ہیں۔ مصر اور لیبیا کی سرحد پر صحرا میں ایک کروڑ ستر لاکھ بارودی سرنگیں بچھی ہوئی ہیں۔ مصر کے صحرا میں ایک چالیس سالہ بدو عبدل نے اپنے بیکار ہو جانے والے ہاتھ کو جھاڑتے ہوئے سابقہ میدان جنگ کے قریب رہنے کے خطرات کے بارے میں بتایا۔ ان کے ہاتھ کی تین انگلیاں ضائع ہو چکی ہیں لیکن اس کا شمار وہاں خوش قسمت لوگوں میں ہوتا ہے۔ ان کے خاندان کے بارہ افراد صحرا میں جنگ عظیم کے دوران بچھائی گئی بارودی سرنگوں کا شکار ہو چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’کبھی کبھار وہ جانوروں کے ساتھ باہر جاتے ہیں۔ وہ تفریح کے لیے نکلتے ہیں اور کبھی واپس نہیں آتے‘۔ اس علاقے میں بارودی سرنگوں کا نشانہ بننے والے آسانی سے مِل جاتے ہیں۔ ایک اور بدو ساٹھ سالہ محمود بادو نے بتایا کہ وہ ایک دھماکے میں بمشکل بچے جس میں ان کی ایک ٹانگ اور ایک ہاتھ ضائع ہو گیا تھا۔ ان کے والد بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ بادو نے کہا کہ ’یہ بارودی سرنگیں جرمن اور برطانوی لوگوں نے بچھائی ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ان کو صاف کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ برطانیہ کا کہنا ہے کہ اس نے مصر کو بارودی سرنگوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے تکنیکی امداد کی پیشکش کی ہے۔ تاہم قاہرہ میں سفارتکاروں نے اس بارے میں بات کرنے سے انکار کر دیا۔ صحرا کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کے لیے دو ارب ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ صحرا کے ایک اور باشندے اور سیاحوں کے لیے گائڈ کے فرائص انجام دینے والے ایک بدو کا کہنا تھا کہ ’یہ یورپ کی لڑائی تھی۔ اس کا افریقہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ اور ان بارودی سرنگوں نے ہمیں پچاس سال پیچھے کر دیا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ بحیرہ روم کے ساحل کے ساتھ اس صحرا سے بارودی سرنگیں نکال دی جائیں تو یہاں لاکھوں لوگوں کو آباد کیا جا سکتا ہے۔ مصر شکایت تو کر سکتا ہے لیکن یہ مسئلہ کچھ الجھا ہوا ہے۔ صدر حسنی مبارک کی حکومت نے بارودی سرنگوں پر پابندی کے لیے عالمی کنوینشن پر دستخط نہیں کیے۔ ان کے ایسا کرنے سے برطانیہ اور جرمنی کو یورپی یونین کی اس پالیسی کا سہارا لینے کا موقع مل گیا ہے جو ایسے ممالک میں بارودی سرنگوں کی صفائی سے روکتی ہے جنہوں نے عالمی کنوینشن پر دستخط نہیں کیے۔ جمعہ کو کینیا میں بارودی سرنگوں کے انسداد کے بارے میں ایک سربراہی اجلاس کے دوران عالمی طاقتوں کو بارودی سرنگوں پر پابندی کے معاہدے کی حمایت کے لیے کہا گیا۔ واشنگٹن نے اس معاہدے پر دستخط کرنے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی فوجی ذمہ داریوں کی وجہ سے ایسا نہیں کر رہا۔ روس امریکہ اور چین کا شمار ان چالیس ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے انیس سو ننیانوے میں اوٹاوا میں بارودی سرنگوں پر خاتمے کے لیے طے پانے والے معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔ ایک سو چوالیس ممالک اس معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||