افغانستان:خود کش حملہ، پندرہ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے ننگر ہار صوبے میں ایک خود کش حملہ آور نے پندرہ افغانوں کو ہلاک اور پچیس کو زخمی کر دیا ہے جبکہ امریکی فوج اور افغان حکومت نے دعوٰی کیا ہے کہ ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں ہونے والی تازہ لڑائی میں بیس سے زیادہ طالبان مارے گئے ہیں۔ نیٹو کی قیادت والی بین الاقوامی فورس آئسیف کے ترجمان میجر مارٹن او ڈانل کے مطابق یہ واقعہ ننگرہار کے خوگیانی ضلع میں پیش آیا۔ نیٹو حکام کے مطابق اگرچہ خودکش حملے کے وقت علاقے میں اتحادی افواج موجود تھیں تاہم حملے میں مارے جانے والے تمام افراد عام شہری تھے۔ اس سے قبل امریکی افواج نے الگ الگ واقعات میں بیس سے زیادہ طالبان کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا۔ مقامی افسران کے مطابق ان میں سے چھ طالبان اس وقت ہلاک ہوئے جب اتحادی اور افغان افواج کے ایک قافلے پر ان کے حملے کے بعد جوابی کارروئی کی گئی۔ اس کے علاوہ غزنی صوبےکے اسی علاقے میں چھ طالبان اور ہلاک ہوئے۔ جنوب مشرقی افغانستان میں طالبان کی جانب سے سخت مزاحمت ہو رہی ہے اور وہاں اتحادی افواج کو کافی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ مقامی افسران کے مطابق تازہ جھڑپوں میں اتحادی اور افغان افواج کو کوئی جانی نقصان نہیں اٹھانا پڑا۔ امریکی افسران کے مطابق مشرقی صوبے کنڑ میں بھی بارہ طالبان مارے گئے ہیں۔ ان لوگوں نے اتوار کو فوج کے پانچ ٹھکانوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا۔ ادھر زابل صوبے میں مقامی افسران نے کہا ہے کہ قندھار اور قلات کے درمیان دو پل تباہ کر دیے گئے ہیں۔ لیکن طالبان نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ پل انہوں نے تباہ کیے ہیں۔ طالبان نے اسی ہفتے کابل میں ایک تقریب پر حملہ کیا تھا۔ یہ تقریب مجاہدین کے ہاتھوں سویت افواج کی شکست کی سولہویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔ حملے میں مشتبہ طالبان کی جانب سے فائرنگ بھی کی گئی جس میں ایک شخص ہلاک اور گیارہ زخمی ہوگئے۔ تقریب میں صدر حامد کرزئی اور کئی دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں لیکن انہیں بحفاظت وہاں سے نکال لیا گیا۔ | اسی بارے میں کابل: کرزئی پریڈ حملے میں محفوظ27 April, 2008 | آس پاس افغانستان: مسجد کے باہر ہلاکتیں18 April, 2008 | آس پاس ’سینئیر طالبان کمانڈر گرفتار‘07 April, 2008 | آس پاس افغانستان میں نیٹو کے دو فوجی ہلاک16 April, 2008 | آس پاس افغانستان:گیارہ پولیس اہلکار ہلاک14 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||