BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 April, 2008, 06:22 GMT 11:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کابل: کرزئی پریڈ حملے میں محفوظ
افغان فوجی
حملے کے بعد تقریب میں افراتفری پھیل گئی
افغانستان میں ایک فوجی پریڈ کے دوران فائرنگ سے ایک رکن پارلیمنٹ سمیت تین افراد ہلاک اور گیارہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

دارالحکومت کابل میں ہونے والی اس تقریب میں صدر حامد کرزئی، افغان وزراء امریکی اور برطانوی سفراء کے علاوہ نیٹو کے فوجی کمانڈر بھی موجود تھے۔ تاہم وہ اس واقعہ میں محفوظ رہے۔

فائرنگ کا یہ واقعہ مجاہدین کے کابل پر قبضے کی سولہویں سالگرہ کے حوالے سے ہونے والی تقریب میں پیش آیا جس میں افغان صدر اور کابینہ کے ارکان کے علاوہ سینکڑوں افراد شریک تھے۔

فائرنگ اس وقت شروع ہوئی جب صدر کرزئی فوجی پریڈ کے معائنے کے بعد سٹیج پر پہنچے اور افغان قومی ترانہ بجنا شروع ہوا۔ تقریب کو افغان ٹی وی پر براہِ راست نشر کیا جا رہا تھا تاہم فائرنگ کے بعد یہ نشریات معطل کر دی گئیں۔

موقع پر موجود ایک پولیس افسر سراج الدین نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ اس نے دو افراد کو کلاشنکوف سے سٹیج کی جانب فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا۔ فائرنگ کے علاوہ جائے وقوع پر ایک دھماکہ بھی سنا گیا۔

اس حملے سے تقریب میں افراتفری کا سماں پیدا ہو گیا اور صدر کرزئی کو فائرنگ کے فوراً بعد ان کے حفاظتی عملے نے ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ افغان حکام نے کہا ہے کہ صدر حامد کرزئی خیریت سے ہیں۔

فائرنگ صدر کرزئی کے فوجی پریڈ کے معائنے کے بعد سٹیج پر پہنچنے کے بعد شروع ہوئی

طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ’ صدر کرزئی پر حملہ ہمارے لوگوں نے کیا ہے جنہوں نے اس تقریب پر راکٹ فائر کیے‘۔

انہوں نے بتایا کہ اس حملے میں چھ افراد نے حصہ لیا جن میں سے تین کارروائی کے دوران ہلاک ہوگئے جبکہ تین گرفتار کر لیے گئے۔ افغان صدر نے بھی واقعہ کے بعد ٹی وی پر خطاب میں ان افراد کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’خوش قسمتی سے افغان فوجیوں نے انہیں گھیرے میں لے لیا اور ان میں سے کچھ پکڑے گئے‘۔

کابل میں بی بی سی کے نمائندے الیسٹر لیتھ ہیڈ کے مطابق اس حملے کے بعد کابل شہر میں بھی افراتفری پھیل گئی تاہم بعد ازاں پولیس اور فوج کے حالات پر قابو پا لیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد