BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 January, 2008, 08:09 GMT 13:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’رشوت دیکر طالبان کمانڈر کی رہائی‘
فائل فوٹو
نقیب اللہ پہلے بھی کئی بار رشوت دیکر رہا ہونے میں کامیاب رہے ہیں
افغانستان میں برطانوی فوج پر حملے کے لیے ذمہ دار ایک طالبان کمانڈر کا کہنا ہے کہ انہوں نے رشوت دیکر جیل سے اپنی رہائی کروائی ہے۔

ملا سرخ نقیب اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے افغان اہلکاروں کو اپنی رہائی کے بدلے پندرہ ہزار ڈالر دیے ہیں۔

’ریڈ ملا‘ یعنی سرخ ملا کے نام سے مشہور نقیب اللہ نے بتایا کہ یہ تیسری بار ہے جب انہیں گرفتاری کے بعد رہا ہونے میں کامیابی ہوئی ہے۔ ملا نقیب اللہ صوبہ ہلمند میں سرگرم ہیں جہاں بڑی تعداد میں برطانوی فوج تعینات ہے۔

نقیب اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پچھلی بار وہ پانچ ماہ جیل میں رہے لیکن وہ اب اپنے حمایتیوں کے درمیان دوبارہ واپس آگئے ہیں۔ انکا کہنا تھا: ’میں گزشتہ برس چوبیس جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا اور مجھے کابل کے قومی حفاظتی گھر یعنی نیشنل ڈائریکٹریٹ آف سیکورٹی( این ایس ڈی) بھیج دیا گیا تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ قانون یہ ہے کہ ملزم کو کسٹڈی میں دو ماہ رکھنے کے بعد عدالت بھیجا جاتا ہے لیکن میں پانچ ماہ تک این ایس ڈی کی حراست میں تھا۔ ’چار جنوری یعنی گزشتہ جمعہ کو ایک آدمی میرے پاس آیا اور گیٹ پر وہ این ایس ڈی کے اہلکار سے ملا۔ اس نے اہلکار کو پندرہ ڈالر دے کر میری رہائی ممکن کرائی۔‘

نقیب اللہ نے یہ بھی بتایا کہ 2004 میں ہلمند میں گرفتار ہونے کے سولہ مہینے بعد وہ رشوت دیکر کابل کی پل چرخی جیل سے باہر آنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ 2005 میں بھی وہ گرفتار ہوئے تھے اور اس بار بھی وہ پولیس کو رشوت دیکر باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

این ایس ڈی کے ایک اہلکار نے اس معاملے پر کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں معلوم کے نقیب اللہ کی رشوت دیکر رہائی کی خبر صحیح ہے یا غلط۔

لیکن این ایس ڈی کے ایک دیگراہلکار نے اس بات کی تصدیق کی کہ نقیب اللہ رہا ہوگیا ہے اور ان کی رہائی کے لیے کون اہلکار ذمہ دار ہے اس بات کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ طالبان کے ایک ترجمان نے بتایا کہ نقیب اللہ واپس ہلمنڈ پہنچ گئے ہیں۔

ملا عمربن لادن کہاں ہیں؟
میں نے 2001 سے اسامہ کو نہیں دیکھا: ملا عمر
طالبانطالبان کے ساتھ سفر
بی بی سی کے نامہ نگار کی خصوصی رپورٹ
مشتبہ طالبانافغانستان میں تشدد
بگڑتی صورتحال کا ذمہ دار آخر کون ہے؟
اسی بارے میں
کابل: امریکی فوجی ہلاک
06 October, 2007 | آس پاس
میڈیا کے ماہر کا پیغام
09 September, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد