طالبان حملوں میں اضافہ ممکن:امریکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے کہا ہے کہ سن دو ہزار آٹھ کے دوران طالبان کی طرف سے حملوں میں اضافے کا امکان ہے۔افغانستان میں سکیورٹی کے بارے میں امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’اسلامی گوریلے ایک مضبوط مزاحمت میں یکجا ہو چکے ہیں‘۔ رپورٹ کے مطابق امکان ہے کہ طالبان ’اپنے دہشت گرد حملوں کی شدت کو نہ صرف برقرار رکھیں گے بلکہ ان میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے‘۔
پینٹاگون کی طرف افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال کے بارے میں جاری ہونے پہلی جامع رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان رہنماؤں کو پکڑنے اور انہیں ہلاک کرنے کے باوجود ان کی طرف سے پرتشدد مزاحمت بڑھتی گئی، جبکہ اب تک افغانستان کی فوج اور پولیس کو تربیت فراہم کرنے والے لوگ میسر نہیں کیے گئے جس کی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق ’پولیس کی تیاری کے راستے میں اصلاحات کا نہ ہونا، کرپشن، ناکافی امریکی فوجی تربیت دینے والے اور عالمی برادری میں عدم اتفاق جیسی رکاوٹیں شامل ہیں‘۔ | اسی بارے میں طالبان حملے ’چالیس فیصد‘ بڑھ گئے25 June, 2008 | آس پاس ’طالبان کی آمدن دس کروڑ ڈالر‘24 June, 2008 | آس پاس ’طالبان کو ارغنداب سے مار بھگایا‘20 June, 2008 | آس پاس طالبان کے خلاف کارروائی کا آغاز 18 June, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||