’طالبان کی آمدن دس کروڑ ڈالر‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے انسدادِ منشیات کی ایجنسی نے کہا ہے کہ سال دو ہزار سات میں طالبان کو منشیات کی تجارت سے ایک سو ملین ڈالر حاصل ہوئے۔ اقوام متحدہ کی انسداد منشیات ایجنسی کے سربراہ اینتونیو ماریا کوسٹا نے کہا ہے کہ طالبان نے یہ رقم پوست کے کاشتکاروں کی آمدن پر دس فیصد ٹیکس لگا کر حاصل کی ہے۔ اینتونیو ماریا کوسٹا کے مطابق طالبان کی آمدن اس سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ نہ صرف کاشتکار سے آمدن کا دس فیصد حاصل کرتے ہیں بلکہ پوست کی تجارت کے دو اور مرحلوں پر بھی ٹیکس وصول کر تے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان پوست کی لیباٹریوں کی حفاظت اور اسے سرحد پار پہنچانے تک کی ذمہ داری لیتے ہیں جس کے لیے وہ علیحدہ ٹیکس وصول کرتے ہیں۔ افغانستان میں رواں سال پوست کی مجموعی پیدوار کے بارے میں حتمی اعداد و شمار ابھی تک سامنے نہیں آئے ہیں لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اس سال پوست کی پیدوار کم ہو گئی ہے لیکن کمی بہت زیادہ نہیں ہو گی۔ اقوام متحدہ کے اہلکار کے مطابق پچھلے سال افغانستان میں آٹھ ہزار ٹن پوست کاشت کی گئی جس میں چار ہزار ٹن کو استعمال کر لیا گیا جبکہ چار ہزار ٹن اب بھی محفوظ مقامات ہیں۔ اقوام متحدہ کا اہلکار کا کہنا ہے کہ پوست کی یہ پیداوار کاشتکاروں کے پاس نہیں ہے بلکہ کہیں اور چھپائی گئی ہے۔ برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ طالبان پوست کی رقم سے اپنی پرتشدد کاروائیوں کو فنڈ کرتے ہیں۔ افغانستان میں برطانوی سفارت خانے میں تعینات ڈیوڈ بیگرو کا کہنا ہے کہ وہ جتنا قریب سے دیکھتے ہیں انہیں طالبان منشیات کے سوداگر نظر آتے ہیں۔ | اسی بارے میں افغانستان: پوست کی ریکارڈ پیداوار01 March, 2008 | آس پاس پوست پر پابندی، ہیروئن کم غربت زیادہ22 June, 2008 | آس پاس پوست کی جڑیں عدم تحفظ و بدعنوانی24 January, 2008 | آس پاس پوست کی کاشت، ساٹھ فیصد اضافہ03 September, 2006 | آس پاس افغانستان پوست کی کاشت کم27 March, 2005 | آس پاس پوست کی کاشت، تشویشناک اضافہ24 September, 2004 | آس پاس طالبان کی پالیسی ’کامیاب ترین‘19 January, 2004 | آس پاس طالبان کی پالیسی ’کامیاب ترین‘ 19 January, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||