BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 June, 2008, 09:56 GMT 14:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پوست پر پابندی، ہیروئن کم غربت زیادہ

پوست کی کاشت پر پابندی لگا دی گئی ہے
افغانستان میں پوست کی کاشت پر پابندی سے ہیروئن کے غیر قانونی کاروبار میں تو کمی واقع ہو گی لیکن اس سے ملک کے پسماندہ علاقوں میں غربت میں مزید اضافہ ہو گا۔

کیٹ کلارک افغانستان میں ایک ایسے شخص سے ملیں جو اپنا قرضہ چکانے کے لیے اپنی چھ سالہ بیٹی کی شادی کرنے پر مجبور ہے۔

جلال آباد دارالحکومت کابل سے جنوب میں کابل اور کنر دریاوں کے سنگم پر واقع ایک سر سبز اور شاداب شہر ہے۔

موسم گرما میں اس شہر کی فضا میں مالٹوں کی خوشبو پھیلی رہتی ہے۔

اس شہر کے گردو نواح میں بسنے والے کسان پوست کی کاشت پر حکومتی پابندی برداشت کرسکتے ہیں۔

لیکن شہر سے دور سنگلاخ پہاڑوں اور پتھریلے میدانوں میں بسنے والے لوگوں کے لیے یہ پابندی شدید مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

اس پابندی کی وجہ سے صوبے میں بے چینی بڑھ گئی ہے اور یہاں سفر کرنا خطرناک ہو گیا ہے۔

اس لیے میں نے دور دراز علاقوں کے دیہاتوں میں کسانوں کے گھروں تک جا کر زمین پر بیٹھ کر چائے پیتے ہوئے ان سے بات کرنے کے بجائے، ناچاہتے ہوئے بھی انہیں جلال آباد بلا کر بات چیت کرنا مناسب سمجھا۔

سن دوہزار کے بعد تین مرتبہ نگر ہار صوبے میں پوست کی کاشت پر پابندی عائد کی گئی لیکن تینوں مرتبہ پوست کی کاشت پہلے سے زیادہ سطح پر پہنچ گئی۔

لیکن ہر مرتبہ غریب کسان غربت کی دلدل میں مزید پھنس گئے اور ان کا گزارا کرنا دشوار سے دشوار تر ہوگیا۔

 کچھ لوگ طالبان میں بھرتی ہوجانے کا سوچ رہے ہیں کیونکہ وہ اپنے جنگجؤں کو ستر پاونڈ ماہانہ ادا کرتے ہیں یا پھر افغان فوج میں نوکری کرنے پر غور کر رہے جو طالبان سے کم تنخواہ دیتے ہیں۔

ایک بوڑھا شخص جمعہ خان (جو ان کا اصلی نام نہیں ہے) وہ پاکستان کی سرحد پر واقع ایک پہاڑی علاقے میں واقع دیہات سے جلال آباد آیا تھا۔

جھریوں سے بھرے چہرے پر پگڑی باندھے ہوئے یہ شخص عمر کے لحاظ سے پوتے پوتیوں والا دکھائی دیتا تھا۔

لیکن اس نے حال ہی میں اپنا قرض اتارنے کے لیے اپنی چھ سالہ بیٹی کی شادی کی تھی۔ اب وہ قرضہ دینے والے شخص کے بیٹے کی بیوی ہے۔

ایک ایسے ملک میں جہاں بینکاری کا نظام نہیں ہے پوست ہی قرضہ لینے کی مروجہ شہ ہے۔

لوگ پوست کی شکل میں قرصہ لیتے ہیں اور پوست کی شکل ہی میں قرضہ واپس کرتے ہیں۔

جب تک جمعہ خان کو پوست کاشت کرنے کی اجازت تھی وہ اپنے قرضے پر لگنے والا سود ادا کرتا رہا گو کہ اصل زر وہ اس وقت بھی ادا نہیں کر سکتا تھا۔

لیکن اب جب کہ پوست کی کاشت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور اسے کم قیمت والی گندم اگانے کو کہا گیا ہے وہ اس سال اپنے بچوں کو خوراک بھی مہیا نہیں کر پائے گا۔

جمعہ خان ایک بے زمین کاشت کار ہے اور اس کا سارا اثاثہ اس کے گھر میں خواتین ہیں۔

اس نے اپنا قرض اتارنے کے لیے پہلے ہی اپنی دو لڑکیوں کی شادی کر دی تھی اور اب مزید ایک ہزار پونڈ کا قرض اتارنے کے لیے اس نے اپنی تیسری لڑکی کی شادی کی ہے۔

افغان معاشرے میں لڑکی کے باپ کو لڑکے یا لڑکے کے خاندان کی طرف سے شادی کے وقت ایک رقم ادا کی جاتی ہے اور شادی کے لیے لڑکی کی قیمت ادا کرنا ایک عام بات ہے۔

جمعہ خان کو صرف اس لیے شرمندگی اٹھانا پڑی کیونکہ اس کو مجبوری میں اپنی لڑکی کی شادی کرنا پڑی۔


آپ سوچتے ہوں گے کہ افغانستان کو پوست کی کاشت سے پاک کرنا ایک اچھا قدم ہو گا۔

افغانستان میں کاشت کی جانے والی پوست سے ہیروئین تیار کی جاتی ہے جس سے دنیا میں ہزاروں لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اس سے حاصل ہونے والے پیسے سے طالبان کی مالی معاونت ہو رہی ہے اور سرکاری سطح پر بدعنوان عناصر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

افغان عام طور پر اسے حرام فصل قرار دیتے ہیں جس کی کاشت پر اسلام میں منع ہے لیکن اگر آپ کا خاندان بھوک سے مر رہا ہو تو حرام چیز بھی حلال ہو جاتی ہے۔

اس لحاظ سے پوست ہمیشہ بہتریں سمجھی جاتی ہے۔ ایک بہت ہی خطرناک اور ناموافق ماحول میں یہ بہترین فصل ہے۔

خشک سالی میں بھی پوست کی فصل ہو جاتی ہے اور جنگ کے دوران بھی یہ فصل آسانی سے بک جاتی ہے۔

اگر آپ پوست کی کاشت کرتے ہیں تو آپ کو قرضہ حاصل کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔

پوست کی کاشت سے اصل فائدہ منشیات کے اسمگلروں، بدعنوانی سرکاری افسروں اور جنوب میں طالبان کو ہوتا ہے جو اس پر ایک مذہبی ٹیکس بھی وصول کرتے ہیں۔

اس کے باوجود کاشت کار کو تھوڑا بہت فائدہ حاصل ہو جاتا ہے۔

پوست کی کاشت میں محنت بہت لگتی ہے اس لیے بے زمین کسانوں کو بھی فائدہ ہو جاتا ہے۔

امدای کام کرنے والے ایک اہلکار نے بتایا کہ غریب کو مالی امداد مہیا کرنے سے یہ زیادہ مؤثر طریقہ ہے۔

نگرہار میں اس سال پوست کی کاشت پر پابندی ہے۔ جمعہ خان کے ضلع میں پوست کی کاشت کرنے والے بہت سے کاشتکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بہت سے خاندانوں کے لیے یہ صورت حال انتہائی مشکل ثابت ہو رہی ہے۔

کچھ لوگ طالبان میں بھرتی ہونے کا سوچ رہے ہیں کیونکہ وہ اپنے جنگجؤں کو ستر پاؤنڈ ماہانہ ادا کرتے ہیں یا پھر افغان فوج میں نوکری کرنے پر غور کر رہے جو طالبان سے کم تنخواہ دیتے ہیں۔

بہت سے کاشت کاروں ابھی تک اس پریشانی کا شکار ہیں کہ وہ کس طرح اپنے خادندان کا پیٹ پالیں گے۔

ایسے کاشت کار حکوت سے سخت نالاں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہیں دھوکہ دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان کی مالی مدد کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن انہیں کچھ نہیں دیا گیا۔

کچھ کا کہنا ہے کہ وہ اگلے سال اس پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پوست کی کاشت کریں گے۔

ایک کسان نے کہا کہ اس کا تعلق کوہگیانی قبیلے سے ہے جس کے مرد شیروں کی طرح بہادر ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو غریب خاندانوں کی مدد کرنی چاہیے۔

لیکن بوڑھا غریب جس نے حال ہی میں اپنی بیٹی کی شادی کی ہے لڑائی کی عمر سے گز چکا ہے اور اب لڑنے کے قابل نہیں رہا۔

تیس سال قبل جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا تھا اس وقت وہ قرضہ لینے پر مجبور ہو گیا تھا۔ ان تیس برس میں وہ اپنے قرضے کا اصل زر نہیں اتار سکا ہے۔

میں نے پوچھا کیا وہ اپنی چھ سال بیٹی کی شادی کرنے پر وہ شرمندہ نہیں ہے۔ جواب ملا نہیں اس کے لیے اصل شرم کی بات یہ ہوتی کہ اس کے قرضہ خواہ اس کے دروازے پر آ کر اس کے رشتہ داروں کے سامنے اس کی بے عزتی کرتے۔

میں نے پوچھا کہ تمہاری بیٹی کیا کہتی ہے۔ اس نے کہا کہ وہ اپنے باپ کی مدد کرنے پر خوش ہے۔

اسے اپنی زمینوں کو پانی دینے کے لیے واپس جانا تھا۔ گندم اس کے خاندان والوں کو کئی ماہ تک روٹی مہیا کر سکتی ہے اور اس سے غافل نہیں ہوا جا سکتا۔

پوست کی طلب
افغانستان کی پیداوار کی یورپ میں مانگ
افغانستان میں پوست
پوست کی کاشت عالمی برادری کا دردِسر
پوست کی کاشت ’پوست کی جڑیں‘
افغانی پوست کی کاشت ختم کیوں نہیں کرتے؟
طالبان کا فائدہ
افغانستان میں پوست کی ریکارڈ پیداوار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد