افغانستان: پوست کی ریکارڈ پیداوار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے افغانستان سے کہا ہے کہ وہ پوست کی کاشت ختم کرنے کے لیے مزید اقدامات کرے کیونکہ پچھلے سال افغانستان میں ایک مرتبہ پھر ریکارڈ مقدار میں افیم پیدا کی گئی۔ یہ بات امریکی محکمۂ خارجہ کی ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے جو گزشتہ رات شائع ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق طالبان پوست کی کاشت سے حاصل ہونے والی رقم سے ہتھیار خریدتے ہیں اور یہ کہ منشیات کی تجارت ملک کی معاشی ترقی میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ دنیا میں استعمال ہونے والی افیم کا نوے فی صد سے زیادہ افغانستان میں پیدا ہوتا ہے اور اس کا غیر قانونی لین دین اربوں ڈالر کا ہوتا ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں منشیات کے خاتمے کے لیے طویل المعیاد قومی اور بین الاقوامی عزم کی ضرورت ہے۔ محکمۂ خارجہ نے افغان حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے پوست کی کاشت روکنے کے لیے سخت ترین اقدامات کرنا ہوں گے ورنہ وقت کے ساتھ یہ مسئلہ سنگین تر ہوتا چلا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق سنہ دو ہزار چھ کے مقابلے میں گزشتہ برس پوست کی پیداوار میں ایک تہائی سے زیادہ کا اضافہ ہوا کیونکہ پچھلے برس موسم زیادہ سازگار تھا۔ فروری میں شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شورش زدہ صوبوں میں اس برس افیم کی پیداوار میں اور بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم مجموعی پیداوار دو ہزار سات کے مقابلے میں مساوی یا کچھ کم رہے گی۔ تاہم افغانستان کا کہنا ہے کہ افیم کی پیداوار پر کنٹرول میں پیش رفت ہو رہی ہے اور اس برس مزید صوبوں کو پوست سے صاف کر دیا جائے گا۔ سنہ دوہزار ایک میں امریکی قبضے کے نتیجے میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے افغانستان میں پوست کی کاشت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے آخری دور میں پوست کی کاشت بالکل ختم ہوگئی تھی۔ | اسی بارے میں شمالی افغانستان، پوست میں اضافہ06 February, 2008 | آس پاس پوست کی جڑیں عدم تحفظ و بدعنوانی24 January, 2008 | آس پاس نوے فیصد پوست افغانستان میں26 June, 2007 | آس پاس ’افیون کے کاروبار کا سب سے بڑا مرکز‘ 27 August, 2007 | آس پاس بات چیت ناکام، سفارتکار روانہ27 December, 2007 | آس پاس افیون کی کھیتی کا ریڈیو اشتہار بند 25 April, 2007 | آس پاس ’پوست سکیورٹی اشو ہے‘06 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||