’افیون کے کاروبار کا سب سے بڑا مرکز‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگر افعانستان میں جلال آباد سے طورخم جانے والی مرکزی شاہراہ پر سفر کیا جائے تو یہ سڑک آپ کو پاکستانی سرحد سے متصل مشرقی صوبے ننگرہار کے شیدل بازار میں لے جاتی ہے۔ پہلی نظر میں قریباً تیس دکانوں پر مشتمل یہ بازار ایک عام مارکیٹ جیسا ہی لگتا ہے لیکن درحقیقت یہ افغانستان میں افیون کی خریدوفروخت کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ ننگر ہار اور ملحقہ علاقوں کے کسان شیدل میں افیون فروخت کرنے کے لیے آتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق ننگرہار اور ہلمند سے ہوتا ہے جو افغانستان میں افیون پیدا کرنے والے دو بڑے صوبے ہیں۔ اس بازار میں روزانہ ہزاروں کلو افیون کا کاروبار ہوتا ہے۔ دکان میں بیٹھ منشیات کے سوداگروں کے چہروں پر تناؤ واضح طور پر نظر آتا ہے۔ یہ لوگ سودا طے کرنے سے قبل مال کے معیار اور قیمت پر زوردار آواز میں بحث کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اس بازار میں کام کرنے والے ایک دکاندار گل محمد(فرضی نام) کی دکان گو کہ مٹی کا ایک جھونپڑا سا ہے لیکن اس میں روزانہ سینکڑوں کلو افیون خریدی اور بیچی جاتی ہے۔ گاہک آتے جاتے رہتے ہیں اور ملازم سبز چائے سے ان کی تواضع کرتے رہتے ہیں۔ شیدل بازار میں کام کرنے والے تمام افراد اپنے ساتھ اسلحہ رکھتے ہیں اور ان کے مطابق اس کی وجہ ان کی اپنی حفاظت ہے۔ان دکانداروں کو افیون فراہم کرنے والے افراد خفیہ طریقے سے افیون ان تک لاتے ہیں اور یہاں پر لوگ ہمہ وقت حکومتی مخبروں کی تلاش میں بھی رہتے ہیں۔ یہاں موجودگی کے دوران جن افراد سے بھی میری بات ہوئی، انہوں نے مجھے اصل نام لکھنے یا تصویر اترنے سے منع کیا کیونکہ انہیں خدشہ ہےکہ اس سے یا تو وہ’گرفتار ہو جائیں گے یا مارے جائیں گے‘۔ اٹھارہ سالہ عبداللہ جان(فرضی نام) جیسے کچھ افراد کو شیدل بازار پہنچنے کے لیے گھنٹوں پیدل سفر کرنا پڑتا ہے۔ عبداللہ کے چہرے پر طاری تھکن اس لمبے سفر کی کہانی کہہ رہی ہے۔عبداللہ کا کہنا ہے کہ وہ صبح چار بجے اپنے علاقے سے نکلا اور چار گھنٹے کے سفر کے بعد اپنی منزلِ مقصود پر پہنچا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ’ میں اپنے کھیتوں میں اگائی گئی دس کلو افیون فروخت کے لیے لایا ہوں‘۔ دکاندار سے تول مول کے بعد عبداللہ کو اس فصل کے بدلے چودہ سو امریکی ڈالر ملتے ہیں جو کہ کسی بھی فصل سے ہونے والی آمدنی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ عبداللہ اور اس سے جیسے کسانوں سے خریدی گئی یہ افیون پہاڑوں اور سرحدی دیہات میں قائم ہیروئن فیکٹریوں میں پہنچائی جاتی ہے جہاں اس سے ہیروئن بنائی جاتی ہے جو آخرِ کار یورپی ممالک کے نشہ کرنے والوں تک جا پہنچتی ہے۔ ننگرہار کے شیدل بازار میں افیون کی فروخت کا سلسلہ طالبان دور میں شروع ہوا تھا۔ طالبان دور کے خاتمے کے بعد اس بازار پر متعدد بار چھاپے مار جا چکے ہیں تاہم یہ بازار بار بار بند ہو کر کھلتا رہا ہے۔حال ہی میں افغانستان کی انسدادِ منشیات فورس نے غیر ملکی فوج کی مدد سے شیدل بازار میں کارروائی بھی کی لیکن وہ بھی اس بازار کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے میں ناکام رہی۔ امریکہ نے افغان حکومت کو حال ہی میں دس ارب ڈالر کی امداد فراہم کی ہے تاہم اس کا بڑا حصہ سکیورٹی پر خرچ ہو گا نہ کہ پوست کی کاشت کےخاتمے کے لیے کسانوں کو متبادل ذرائع کی فراہمی کے لیے۔ پنتلیس سالہ گل محمد کے لیے افیون کی تجارت زندہ رہنے کا واحد ذریعہ ہے۔ ان کا کہنا ہے’ اگر ہمارے ہاں سڑکیں ہوں، ہسپتال ہوں، کارخانے ہوں، نوکری کے مواقع ہوں تو میں وہ کبھی بھی نہ کروں جو میں اب کر رہا ہوں‘۔
بیس کلو افیون فروخت کرنے کے لیے بازار میں موجود حاجی دین گل کا کہنا تھا کہ افغان حکومت اور بین الاقوامی برادری کسانوں کو نشانہ بنانے کی بجائے ان افراد کا قلع قمع کرے جو منشیات کی سمگلنگ کرتے ہیں۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ علاقے کی ڈرگ مافیا بہت طاقتور ہے۔ انسدادِ منشیات کے ذمہ دار اور نائب وزیرِ داخلہ جنرل داؤد داؤد کا کہنا ہے کہ’وہ لوگ بہت طاقتور ہیں۔ آچن ڈسٹرکٹ کی ان پہاڑیوں اور دیگر سرحدی دیہات میں موجود ان افراد کے مشین گنوں سے لے کر راکٹ سے پھینکے جانے والے بموں تک سب موجود ہے۔ اور یہی نہیں ان کے پاس ہم سے زیادہ رقم اور وسائل اور بہترگاڑیاں موجود ہیں۔ |
اسی بارے میں افغانستان، افیون کی پیداوار میں اضافہ02 March, 2007 | آس پاس ’طالبان پوست کی کاشت کے ذمہ دار‘ 29 May, 2006 | آس پاس افغان سمگلر اورعالمی کوشش18 May, 2005 | آس پاس ’افغانستان منشیات کاملک بن سکتاہے‘18 November, 2004 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||