افغانستان، افیون کی پیداوار میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں گزشتہ سال کے دوران افیون کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ منشیات سے متعلق امریکی وزارت خارجہ کی سالانہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ منشیات کی بڑھتی ہوئی تجارت کی وجہ سے طالبان کے خلاف جنگ میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس اضافے کی وجہ سے یورپ اور مشرق وسطی میں ہیروئن کے استعمال میں اضافے کا امکان زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق سن2006 کے دوران افیون کی پیداوار میں پچیس فیصد کا اضافہ ہوا ہے جسے امریکی نائب وزیر خارجہ این پیٹرسن نے خطرناک قرار دیا ہے۔ امریکہ اور اسکے اتحادی برطانیہ نےگزشتہ چار سال سے افیون کی پیداوار کے خاتمہ کے لیے کوششیں شروع کی ہیں لیکن اسکے باوجود دنیا میں افیون کی تجارت میں افغانستان کا حصہ نوے فیصد ہے۔ امریکہ نے حال ہی میں افغانستان کو دس بلین ڈالر کی امداد دی ہے لیکن اس سلسلے میں زیادہ رقم کاشتکاروں کو متبادل ذرائع کی تلاش کی بجائے سکیورٹی کے معاملات پر خرچ ہوگی۔ رپورٹ میں جنوبی امریکہ کے بائیں بازو کے رہنماوں جیسے وینز ویلا کے ہوگو شاویز اور بولویا کے رہنما ایوو مورلیز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ منشیات کی تجارت کی روک تھام میں ناکام ہوئے ہیں اور اس سلسے میں میں ناکافی اقدامات اٹھارہے ہیں۔ | اسی بارے میں طالبان کوافیم چاہیئے15 September, 2003 | آس پاس افغانستان: منشیات فروشوں سے خطرہ29 October, 2003 | آس پاس منشیات پر بش کی تشویش17 September, 2004 | آس پاس ’افغانستان منشیات کاملک بن سکتاہے‘18 November, 2004 | آس پاس حامد کرزئی بھی ذمہ دار ہیں: امریکہ22 May, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||