BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 May, 2007, 11:48 GMT 16:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پوست کی کاشت میں دس فیصد اضافہ

پاکستان میں پوست کی کاشت کو ختم کرنے کے لیے گزشتہ دو دہائیوں سے کوششیں جاری ہیں
پوست کی کاشت میں اس سال کمی ہونے کےحکومتی دعوؤں کے برعکس قبائلی حکام کے مطابق قبائلی علاقاجات میں سکیورٹی کی خراب صورت حال کی بنا پر اس فصل کی پیداوار میں دس فیصد اضافہ ہوا ہے۔


پشاور میں محکمہ داخلہ کے ایڈیشنل سیکریٹری منظور احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبے کے ان علاقوں میں گزشتہ برس کے مقابلے میں پوست کی کاشت میں کمی آئی ہے۔ اس کی وجہ انہوں نے بہتر حکومتی پالیسی کو قرار دیا جس کے تحت کاشت کاروں نے رضاکارانہ طور پر فصل کاشت نہیں کی۔

صوبہ سرحد اور بلوچستان کے بعض دوردراز علاقوں اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقاجات میں پوست کی کاشت کا مکمل خاتمہ حکومت کے لیے ہر سال ایک بڑا چیلنج ثابت ہوتا ہے۔

وفاقی وزیر برائے انسداد منشیات غوث بخش مہر نے گزشتہ برس دعویٰ کیا تھا کہ اس سال پاکستان کو پوست کی فصل سے پاک کر دیا جائے گا تاہم ایسا نہیں ہوسکا ہے۔

پوست کی فصل اپریل مئی میں تیار ہوتی ہے۔ اس موسم میں گزشتہ برس حکومت نے تین ہزار ایکڑ اراضی پر پوست تباہ کی تھی۔ حکومت کا دعوی ہے کہ ملک میں ہیروئن تیار کرنے کی کوئی لیبارٹری موجود نہیں ہے۔

منظور احمد نے بتایا کہ اس برس صرف کالا ڈھاکہ میں چھ سو ایکڑ پر پوست کاشت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صرف دو سو ایکڑ پر یہ فصل تلف کروانے میں کامیاب ہوئی۔ حکومتی دعوے کے برعکس پوست کے کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس سال پوست کی کاشت افغانستان میں اس کی اچھی فصل ہونے کی وجہ سے کم کی ہے۔

افغانستان میں پوست کی کاشت کے اضافے سے پاکستان میں اس کی کاشت بہت زیادہ منافع بخش نہیں رہی ہے

ایک کاشت کار شاہد اللہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں پوست کی گزشتہ کئی بہتر فصلوں کی وجہ سے افیون کی قیمت گری ہے۔ ’اب اتنا مالی فائدہ نہیں جتنا پہلے ہوتا تھا۔‘

کالا ڈھاکہ کے کاشت کار تیار افیون بعد میں قبائلی علاقوں سے ہی آئے ہوئے بیوپاریوں پر فروخت کر دیتے ہیں۔

سرکاری اداروں کا کہنا ہے کہ وہ اس برس پوست کی کاشت سے متعلق حتمی اعداوشمار اکٹھے کر رہے ہیں۔

قبائلی علاقوں کے حکام کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں اس برس پوست کی کاشت میں دس فیصد اضافے کی وجہ وہاں سکیورٹی کی تشویشناک صورتحال ہے۔ قبائلی علاقوں میں ایڈیشنل سیکریٹری نارکاٹکس مسعود بنگش نے بی بی سی کو بتایا کہ پوست کی ستر فیصد فصل خیبر ایجنسی میں کاشت کی جاتی ہے۔

تاہم گزشتہ برس سے اس علاقے میں دو مذہبی گروہوں کے درمیان تصادم کی وجہ سے حکام اس علاقے میں نہیں جاسکے۔

خیبر کے علاوہ مہمند ایجنسی میں بھی پوست کی کاشت میں اس سال اضافہ دیکھا گیا ہے تاہم باجوڑ اور اورکزئی میں یہ فصل گزشتہ برس جتنی ہی کاشت ہوئی۔

مسعود بنگش نے بتایا کہ وہ مئی کے اواخر میں اس برس پوست کی کاشت سے متعلق اس برس کی رپورٹ کو حتمی شکل دیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد