نوے فیصد پوست افغانستان میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی منشیات کے بارے میں ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ افغانستان میں پوست کی کاشت خطرناک حدوں کو چھونے لگی ہے۔ منشیات کی عالمی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نوے فیصد پوست جس سے ہیروئن بنائی جارہی ہے افغانستان میں کاشت کی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں تیس ہزار سے زیادہ بین الاقوامی فوجیوں کی موجودگی کے باوجود پوست کی کاشت میں زبردست اور ڈرامائی انداز میں اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان میں پوست کی کاشت انیس سو اسی کی دہائی میں کل عالمی پیداوار کا تیس فیصد تھا لیکن اس میں اب تین گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب تک افغانستان میں پوست کی کاشت پر قابو نہیں پایا جاتا افغانستان میں استحکام بحال نہیں ہو سکتا۔ اس رپورٹ کے مطابق صرف افغانستان کے صوبے ہلمند میں پوست کی کل عالمی پیداوار کا نصف حصہ کاشت کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کو مرتب کرنے والے تھامس پیچمین کا کہنا ہے ہلمند میں پوست کی پیداوارنے بہت سے ملکوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ہلمند کے صوبے میں ستر ہزار ہیکٹر رقبے پر پوست کی کاشت کی جاتی ہے جو کہ برما میں پوست کے زیر کاشت رقبے کا تین گنا ہے۔ پیچمین نے کہا کہ برما پوست کی کاشت میں دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے لیکن ہلمند اس سے تین گنا زیادہ اہم ہے۔ | اسی بارے میں افغانستان: کلینِک پر حملہ10 April, 2006 | آس پاس افغانستان، افیون کی پیداوار میں اضافہ02 March, 2007 | آس پاس ’پوست سکیورٹی اشو ہے‘06 March, 2007 | آس پاس افیون کی کھیتی کا ریڈیو اشتہار بند 25 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||