بات چیت ناکام، سفارتکار روانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان سے دو غیر ملکی سفارتکاروں کی ملک بدری کو رکوانے کے لیے جاری بات چیت ناکام ہونے کے بعد دونوں سفارتکار افغانستان سے روانہ ہو گئے ہیں۔ ان میں سے ایک اقوام متحدہ سے منسلک برطانوی شہری مرون پیٹرسن ہیں جبکہ دوسرے افغانستان میں یورپی یونین کے مشن کے سربراہ ایرشمین مائیکل سیمل ہیں۔ کابل میں مقیم ان دونوں سفارتکاروں پر الزام تھا کہ وہ افغانستان کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے تھے۔ افغان حکام نے سفارتکاروں کو منگل کو غیر پسندیدہ افراد قرار دیکر ملک سے چلے جانے کو کہہ دیا تھا تاہم دو دن تک انہیں رکوانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رہیں۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد دونوں سفارتکار جمعرات کو کابل سے روانہ ہو گئے۔ کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار الیسٹر لیتھہیڈ کا کہنا ہے کہ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ افغان حکومت کے کچھ حلقوں کو اس بارے میں کوئی شک نہیں تھا کہ مسٹر پیٹرسن اور مسٹر سیمپل سرکردہ قبائلی رہنماؤں سے ملتے رہے ہیں۔ تاہم ابھی تک وزارت داخلہ یا وزارت خارجہ نے واضح طور پر نہیں بتایا ہے کہ سفارتکاروں کو ملک سے نکالنے کا اصل سبب کیا ہے۔ واضح رہے کہ دونوں عہدیداروں کو افغان حکام نے اس الزام کے بعد ملک سے نکل جانے کو کہا تھا کہ انہوں نے جنوبی صوبے ہلمند میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں۔ افغان حکومت نے انہیں جمعرات تک ہر صورت افغانستان سے چلے جانے کا حکم دیا ہوا تھا۔
افغان صدر حامد کرزئی کے ترجمان ہمایوں حمیدزادہ نے کہا تھا کہ یہ عہدیدار ایسی سرگرمیوں میں ملوث تھے جو ان کے دائرہ اختیار میں نہیں تھیں۔ اقوام متحدہ اور یورپی یونین افغانستان کےصوبے ہلمند میں پوست کی کاشت کو ختم کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سفارتکاروں کے خلاف کارروائی کی کا آغاز اس وقت ہوا جب صوبہ ہلمند کے گورنر نے مرکزی حکومت سے شکایت کی کہ یہ دونوں حضرات طالبان سے بھی بات چیت کر رہے تھے۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ افغان امور کے ماہر سمجھے جانے والے یہ دونوں سفارتکار قبائلی سرداروں سے بات چیت کرتے رہے ہیں اور انہیں طالبان کی حمایت چھوڑ کر افغان حکومت کا ساتھ دینے کی ترغیب دیتے رہے ہیں۔ ان قبائلی سرداروں میں طالبان سے ہمدردی رکھنے والے لوگ بھی شامل تھے۔ اگرچہ برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن کا اصرار ہے کہ برطانیہ طالبان سے بات چیت نہیں کرتا تاہم مقامی سطح پر اس قسم کی بات چیت ہوتی رہتی ہے اور اسے افغانستان میں استحکام لانے کی حمکت عملی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کا فیصلہ غلط فہمی کا نتیجہ ہے اور وہ کوشش کریں گے کہ غلط فہمی دور ہو جائے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان علیم صدیقی نے کہا تھا کہ وہ افغان حکام پر حقائق واضح کر رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ ہلمند میں اقوام متحدہ کا عملہ کام کرتا رہے گا۔ | اسی بارے میں ملک بدری سے بچانے کی کوششیں26 December, 2007 | آس پاس ’افغانستان کوطالبان سے خطرہ‘22 December, 2007 | آس پاس کابل: راکٹ حملہ، پانچ ہلاک 15 December, 2007 | آس پاس موسیٰ قلعہ پر طالبان کا قبضہ ختم11 December, 2007 | آس پاس افغانیوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے04 December, 2007 | آس پاس افغان فوج تین گنا بڑھ جائے گی03 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||