BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ملک بدری سے بچانے کی کوششیں
پوست کی کاشت
اقوام متحدہ اور یورپی یونین صوبہ ہلمند سے پوست کی کاشت ختم کروانے کی کوشش کر رہے ہیں
افغانستان میں دو سینیئر غیر ملکی اہلکاروں کو ملک بدری سے بچانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

کابل میں مقیم اقوام متحدہ کے ایک سینیئر اہلکار اور یورپی یونین کے مشن کے سربراہ پر الزام ہے کہ یہ دونوں افغانستان کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

دونوں عہدیداروں کو افغان حکام نے اس الزام کے بعد ملک سے نکل جانے کو کہا کہ انہوں نے جنوبی صوبے ہلمند میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں۔

ایک عہدیدار کا تعلق برطانیہ جبکہ دوسرے کا تعلق آئرلینڈ سے ہے۔ دونوں ہلمند میں تعینات تھے اور افغانستان کے قبائل کے لوگوں سے بات چیت کر رہے تھے۔

افغان حکومت نے انہیں جمعرات تک ہر صورت افغانستان سے چلے جانے کا حکم دیا ہوا ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی کے ترجمان ہمایوں حمیدزادہ نے کہا ہے کہ دو غیر ملکوں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا گیا ہے اور ان کو ملک چھوڑنے کا کہا گیا ہے جبکہ ان کے مقامی ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

افغان صدر کے ترجمان نے کہا کہ یہ عہدیدار ایسی سرگرمیوں میں ملوث تھے جو ان کے دائرہ اختیار میں نہیں تھیں۔ اقوام متحدہ اور یورپی یونین افغانستان کےصوبے ہلمند میں پوست کی کاشت کو ختم کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 افغان حکومت کا فیصلہ غلط فہمی کا نتیجہ ہے اور ہم کوشش کریں گے کہ غلط فہمی دور ہو جائے۔ ہم افغان حکام پر حقائق واضح کر رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ہلمند میں اقوام متحدہ کا عملہ کام کرتا رہے گا
اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ وہ افغانستان کی حکومت کا فیصلہ تسلیم کریں گے لیکن وہ افغان حکومت کی غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کا فیصلہ غلط فہمی کا نتیجہ ہے اور وہ کوشش کریں گے کہ غلط فہمی دور ہو جائے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان علیم صدیقی نے کہا کہ وہ افغان حکام پر حقائق واضح کر رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ ہلمند میں اقوام متحدہ کا عملہ کام کرتا رہے گا۔

کابل میں بی بی سی کے نمائندے ایلسٹر لیتھیڈ کا کہنا ہے کہ ناپسندیدہ قرار دیئے جانے والے ایک عہدیدار افغانستان میں یورپین یونین مشن کے قائم مقام سربراہ ہیں اور وہ افغانستان میں زمینی حقائق جاننے کے لیے مختلف گرہوں سے بات چیت کر رہے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مختلف گروہوں سے بات چیت کو طالبان کی حمایت سے نہ تعبیر کیا جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد