ملک بدری سے بچانے کی کوششیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں دو سینیئر غیر ملکی اہلکاروں کو ملک بدری سے بچانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ کابل میں مقیم اقوام متحدہ کے ایک سینیئر اہلکار اور یورپی یونین کے مشن کے سربراہ پر الزام ہے کہ یہ دونوں افغانستان کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ دونوں عہدیداروں کو افغان حکام نے اس الزام کے بعد ملک سے نکل جانے کو کہا کہ انہوں نے جنوبی صوبے ہلمند میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں۔ ایک عہدیدار کا تعلق برطانیہ جبکہ دوسرے کا تعلق آئرلینڈ سے ہے۔ دونوں ہلمند میں تعینات تھے اور افغانستان کے قبائل کے لوگوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ افغان حکومت نے انہیں جمعرات تک ہر صورت افغانستان سے چلے جانے کا حکم دیا ہوا ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی کے ترجمان ہمایوں حمیدزادہ نے کہا ہے کہ دو غیر ملکوں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا گیا ہے اور ان کو ملک چھوڑنے کا کہا گیا ہے جبکہ ان کے مقامی ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ افغان صدر کے ترجمان نے کہا کہ یہ عہدیدار ایسی سرگرمیوں میں ملوث تھے جو ان کے دائرہ اختیار میں نہیں تھیں۔ اقوام متحدہ اور یورپی یونین افغانستان کےصوبے ہلمند میں پوست کی کاشت کو ختم کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ وہ افغانستان کی حکومت کا فیصلہ تسلیم کریں گے لیکن وہ افغان حکومت کی غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کا فیصلہ غلط فہمی کا نتیجہ ہے اور وہ کوشش کریں گے کہ غلط فہمی دور ہو جائے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان علیم صدیقی نے کہا کہ وہ افغان حکام پر حقائق واضح کر رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ ہلمند میں اقوام متحدہ کا عملہ کام کرتا رہے گا۔ کابل میں بی بی سی کے نمائندے ایلسٹر لیتھیڈ کا کہنا ہے کہ ناپسندیدہ قرار دیئے جانے والے ایک عہدیدار افغانستان میں یورپین یونین مشن کے قائم مقام سربراہ ہیں اور وہ افغانستان میں زمینی حقائق جاننے کے لیے مختلف گرہوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مختلف گروہوں سے بات چیت کو طالبان کی حمایت سے نہ تعبیر کیا جائے۔ | اسی بارے میں ’افغانستان کوطالبان سے خطرہ‘22 December, 2007 | آس پاس کابل: راکٹ حملہ، پانچ ہلاک 15 December, 2007 | آس پاس موسیٰ قلعہ پر طالبان کا قبضہ ختم11 December, 2007 | آس پاس افغانیوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے04 December, 2007 | آس پاس افغان فوج تین گنا بڑھ جائے گی03 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||