طالبان حملے ’چالیس فیصد‘ بڑھ گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی ریجنل کمانڈر کے مطابق مشرقی افغانستان میں گزشتہ برس کے مقابلے میں حالیہ دنوں میں طالبان کے حملوں میں چالیس فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ میجر جنرل جیفری شولیسر کے مطابق شدت پسند اب افغانستان کی معاشی ترقی کے درپے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرقی افغانستان میں طالبان کی کارروائیوں میں سے بارہ فیصد پاکستان سے ملحقہ سرحد کے ساتھ ہوئے ہیں۔ انہوں نے طالبان اور القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ان شدت پسندوں کو حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جو بقول ان کے سرحد کے دونوں جانب سرگرم ہیں۔ واشنگٹن میں موجود رپورٹرز سے بذریعہ ویڈیو لنک بات کرتے ہوئے میجر جنرل شولیسر نے کہا کہ ’دشمن سرحدی علاقے میں آزادانہ نقل و حرکت میں مصروف ہے اور وہیں پناہ حاصل کرتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ دشمنوں نے سکول جلانے اور اساتذہ اور طباء کو قتل کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے اور’مجموعی طور پر جب آپ دیکھتے ہیں تو وہ ایسی چیزوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو ایک عام افغان شہری کا معیارِ زندگی بلند کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہو‘۔ یاد رہے کہ امریکی جنرل کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسی ماہ پاکستانی سرحد کے اندر طالبان کے خلاف کارروائی میں مصروف امریکی فوج کے ایکشن میں گیارہ پاکستانی فوجی مارے گئے تھے۔ | اسی بارے میں ’طالبان کی آمدن دس کروڑ ڈالر‘24 June, 2008 | آس پاس افغانستان :پانچ فوجی ہلاک22 June, 2008 | آس پاس پوست پر پابندی، ہیروئن کم غربت زیادہ22 June, 2008 | آس پاس افغانستان: خودکش حملہ، 6 ہلاک20 June, 2008 | آس پاس ’طالبان کو ارغنداب سے مار بھگایا‘20 June, 2008 | آس پاس طالبان کے خلاف کارروائی کا آغاز 18 June, 2008 | آس پاس افغانستان: جنگ کے خوف سے بھگدڑ17 June, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||