BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 June, 2008, 04:15 GMT 09:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان حملے ’چالیس فیصد‘ بڑھ گئے
طالبان(فائل فوٹو)
امریکی ریجنل کمانڈر کے مطابق مشرقی افغانستان میں گزشتہ برس کے مقابلے میں حالیہ دنوں میں طالبان کے حملوں میں چالیس فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

میجر جنرل جیفری شولیسر کے مطابق شدت پسند اب افغانستان کی معاشی ترقی کے درپے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مشرقی افغانستان میں طالبان کی کارروائیوں میں سے بارہ فیصد پاکستان سے ملحقہ سرحد کے ساتھ ہوئے ہیں۔ انہوں نے طالبان اور القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ان شدت پسندوں کو حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جو بقول ان کے سرحد کے دونوں جانب سرگرم ہیں۔

واشنگٹن میں موجود رپورٹرز سے بذریعہ ویڈیو لنک بات کرتے ہوئے میجر جنرل شولیسر نے کہا کہ ’دشمن سرحدی علاقے میں آزادانہ نقل و حرکت میں مصروف ہے اور وہیں پناہ حاصل کرتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ دشمنوں نے سکول جلانے اور اساتذہ اور طباء کو قتل کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے اور’مجموعی طور پر جب آپ دیکھتے ہیں تو وہ ایسی چیزوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو ایک عام افغان شہری کا معیارِ زندگی بلند کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہو‘۔

یاد رہے کہ امریکی جنرل کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسی ماہ پاکستانی سرحد کے اندر طالبان کے خلاف کارروائی میں مصروف امریکی فوج کے ایکشن میں گیارہ پاکستانی فوجی مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد