افغانستان: جنگ کے خوف سے بھگدڑ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افغانستان میں کئی دیہاتوں پر طالبان کے قبضے کے بعد ممکنہ جنگ کے خوف سے سینکڑوں افغان خاندانوں نے اپنے گھر چھوڑ کر دوسرے مقامات پر منتقل ہونا شروع کر دیا ہے۔ قندھار شہر کے قریبی شہروں میں رہنے والے لوگوں اور حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں ضلع ارغنداب سے سینکڑوں خاندانوں نے نقل مکانی کی ہے۔ جمعہ کو شہر کی جیل سے ساڑھے تین سو طالبان جنگجو فرار ہو گئے تھے۔ افغان اور نیٹو حکام کا کہنا ہے کہ باغیوں کی جانب سے کسی بھی مملکنہ خطرے کے پیش نظر فوجی نفری کو مزید بڑھایا جا رہا ہے۔ ابھی یہ بات واضح نہیں ہے کہ جیل سے فرار ہونے والے طالبان جنگجو بھی پیر کے روز دیہاتوں پر قبضہ کرنے والے طالبان میں شامل ہیں یا نہیں۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ تین سو فوجی منگل کو منگل قندھار پہنچ جائیں گے جب کے کچھ اس پہلے پیر کو ہی قندھار پہنچ چکے ہیں۔ عینی شاہدوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ضلع ارغنداب میں نیٹو اور افغان فوجیوں کا اجتماع ہو رہا ہے۔ افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان جنرل ظاہر عظیمی نے بی بی سی کو بتایا ہے
ان کا کہنا ہے کہ ’اس کے علاوہ انہوں کچھ پل بھی اڑا دیے ہیں لیکن ہم انہیں ہر جگہ تلاش کر رہے ہیں‘۔ اطلاعات کے مطابق نیٹو ہیلی کاپٹر دیہاتوں پر ایسے اشتہار گرا رہے ہیں جن میں لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ آپریشن سے پہلے علاقے سے چلے جائیں۔ | اسی بارے میں جرمنی: مزید فوج بھیجنے سے انکار02 February, 2008 | آس پاس افغانستان کے لیے مزید فوج کا مطالبہ01 February, 2008 | آس پاس ’نیٹو افغان جنگ ہار بھی سکتی ہے‘19 January, 2008 | آس پاس افغانستان: سردی سے200 ہلاک18 January, 2008 | آس پاس پوست کی جڑیں عدم تحفظ و بدعنوانی24 January, 2008 | آس پاس ہلمند حملہ، نائب گورنر ہلاک31 January, 2008 | آس پاس ’یقین دلاتا ہوں صحافی کے ساتھ انصاف ہوگا‘31 January, 2008 | آس پاس کابل میں خودکش حملہ31 January, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||