افغانستان: ہلاکتیں، متضاد اطلاعات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرقی افغانستان میں امریکی افواج کے فضائی حملے میں ہلاک ہونے والوں کے بارے میں متضاد اطلاعات آرہی ہیں۔ امریکی فوج نے کہا ہے کہ حملے میں دو گاڑیوں میں سوار شدت پسند مارے گئے جنہوں نے نیٹو افواج پر حملہ کیا تھا۔ جبکہ افغانستان کے صوبہ نورستان میں حکام کا کہنا ہے کہ دونوں گاڑیوں میں سوار عام شہری مارے گئے ہیں۔ افغان صدر حامد کرزئی نے اکثر عالمی امن فوج پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکتیں روکیں۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ دونوں گاڑیوں میں ایک عورت اور ایک بچے سمیت بائیس شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ صوبہ نورستان کے ایک اہلکار ضیاء الرحمان نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے شہری اتحادی افواج کے کہنے پر علاقہ خالی کر رہے تھے جبکہ ان پر بمباری ہوئی۔ امریکی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ شدت پسندوں نے نیٹو افواج پر مارٹر فائر کیا تھا۔ امریکی فوج نے ہلاکتوں کی تفصیلات نہیں بتائی لیکن یہ کہا ہے کہ شہری نہیں ہلاک ہوئے۔ افغانستان میں نیٹو کے کمانڈ کے تحت لگ بھگ سات لاکھ غیرملکی فوجی تعینات ہیں۔ گزشتہ سال طالبان مزاحمت سے متعلق تشدد میں آٹھ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں ’ایران پر پابندیوں کامطالبہ کروں گا‘16 June, 2008 | آس پاس طالبان کے خلاف کارروائی کا آغاز 18 June, 2008 | آس پاس افغانستان: خودکش حملہ، 6 ہلاک20 June, 2008 | آس پاس افغانستان :پانچ فوجی ہلاک22 June, 2008 | آس پاس طالبان حملوں میں اضافہ ممکن:امریکہ28 June, 2008 | آس پاس طالبان نے امریکی ہیلی کاپٹر مار گرایا02 July, 2008 | آس پاس قندھار:چوکی پر حملہ، آٹھ ہلاک04 July, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||