’امریکی بمباری، 22 شہری ہلاک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صوبے ننگرہار کے ایک ضلعی گورنر ہمیش گُل نے کہا ہے کہ ایک شادی کی تقریب پر امریکی بمباری سے بائیس شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔ تاہم افغانستان میں تعینات امریکی قیادت میں غیر ملکی فوج نے کہا ہے کہ انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا تھا کہ جہاں حملہ کیا جانا تھا وہاں کوئی عام شہری موجود نہیں۔ انہوں نے حملے کے بعد کئی شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ دو دنوں میں دوسرا موقع ہے کہ امریکی بمباری کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکت کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ اس سے قبل افغان حکام نے سنیچر کو کہا تھا کہ صوبہ نورستان میں دون گاڑیوں پر امریکی بمباری سے ایک عورت اور ایک بچے سمیت بائیس شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ صوبہ نورستان کے ایک اہلکار ضیاء الرحمان نے بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والے شہری اتحادی افواج کے کہنے پر علاقہ خالی کر رہے تھے جبکہ ان پر بمباری ہوئی۔ امریکی فوج نے ایک بیان میں کہا تھا کہ شدت پسندوں نے نیٹو افواج پر مارٹر فائر کیا تھا۔ امریکی فوج نے ہلاکتوں کی تفصیلات نہیں بتائی لیکن یہ کہا ہے کہ شہری نہیں ہلاک ہوئے۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے سنیچر کو مشرقی نورستان میں ہونے والے ایک اور حملے میں بائیس افراد کی ہلاکت کی اطلاعات کے بعد تحقیقات کا حکم بھی دیا ہے۔ حامد کرزئی کئی موقعوں پر غیر ملکی فوج سے یہ احتیاط برتنے کو کہہ چکے ہیں کہ حملوں میں شہریوں کا کوئی نقصان نہ ہو۔ افغانستان میں نیٹو کے کمانڈ کے تحت لگ بھگ سات لاکھ غیرملکی فوجی تعینات ہیں۔ گزشتہ سال طالبان مزاحمت سے متعلق تشدد میں آٹھ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں تین شہری نیٹو فوج کا نشانہ: حکام07 October, 2007 | آس پاس ’موسیٰ قلعہ:شہری ہلاک ہوئے‘16 December, 2007 | آس پاس شہری نہیں مجرم مارے : امریکہ21 October, 2007 | آس پاس ’غزہ: پندرہ فلسطینی شہری ہلاک‘16 April, 2008 | آس پاس امریکی حملے میں 8شہری ہلاک22 May, 2008 | آس پاس شہریوں پر حملہ، تحقیقات ہوں گی18 September, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||