تین شہری نیٹو فوج کا نشانہ: حکام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں نیٹو کی سربراہی میں قائم ’ایساف‘ فورس کا کہنا ہے کہ دو مختلف واقعات میں تین شہریوں کوگولی مار کر ہلاک کردیا گیا ہے۔ ایساف فورس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ انہیں ان واقعات پر انتہائی افسوس ہے۔ ایساف کے مطابق پہلا واقعہ صوبہ کنہٹر میں اس وقت پیش آیا جب دو افغان شہری، جو ایک لاری میں سوار تھے، ایک فوجی چوکی پر حکم کے باوجود نہیں رکے۔ ایساف کا کہنا ہے کہ اس مقام پر فوجی چوکی کے قیام کی وجہ اڈے پر بس کے ممکنہ حملے کی خفیہ اطلاعات تھیں۔ نیٹو فورس کا کہنا ہے کہ ملک کے مزید جنوب میں واقع پکتیا صوبے میں ایک فوجی قافلے کے قریب ایک ’مشکوک‘ شخص کو دیکھا گیا، اسے رکنے کو کہا گیا مگر وہ نہیں اور اسے گولی مار دی گئی۔ ماضی میں صدر حامد کرزئی کی جانب سے مختلف حملوں میں شہری ہلاکتوں کی وجہ سے نیٹو اور اتحادی افواج پر کڑی تنقید کی جا چکی ہے۔ |
اسی بارے میں افغانستان، ہلاکتوں پر غُصّہ جائز:نیٹو24 June, 2007 | آس پاس افغانستان: 70 سے زائد ہلاکتیں07 July, 2007 | آس پاس افغانستان: فرینڈلی فائر میں ہلاکتیں25 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||