BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 October, 2007, 14:06 GMT 19:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شہری نہیں مجرم مارے : امریکہ
صدر(فائل فوٹو)
صدر شہر میں امریکی فوج کی مخالفین سے اکثر جھڑپیں ہوتی ہیں
امریکی فوج نے کہا ہے کہ بغداد میں تین مختلف چھاپوں میں انچاس ’مجرم‘ مارے گئے ہیں۔ فوج نے کہا کہ اس کارروائی کا ہدف اغوا کی وارداتوں کی مہارت رکھنے والا ایک گروہ تھا۔

عراقی ذرائع نے بتایا کہ اس کارروائی میں عورتیں اور بچے بھی ہلاک ہوئے تاہم امریکہ نے اس کے بارے میں لا علمی ظاہر کی۔

امریکی فوج نے یہ کارروائی بغداد کے علاقے صدر میں کی تھی جو شعیہ رہنما مقتدیٰ الصدر کا گڑھ ہے اور جہاں امریکی فوج اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران ان پر خودکار ہتھیاروں سے مسلسل حملے کیے گئے جس کے جواب میں انہوں نے بھی گولیاں چلائیں۔ زمینی دستوں نے فضائیہ کی مدد بھی طلب کی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اتوار کی صبح صدر شہر میں شدید فائرنگ کی آواز سنی گئی اور امریکی ہیلی کاپٹر بھی علاقے میں چکر لگا رہے تھے۔

رائٹرز نے ایک عورت کے حوالے سے بتایا کہ ’ہم صبح اٹھ رہے تھے کہ گھر میں راکٹ گرے اور بچوں نے چیخنا شروع کر دیا‘۔

ایجنسی نے مقتدیٰ الصدر کے ایک حامی اہلکار کے حوالے سے خبر دی کہ انہوں نے امریکی فوج کی کارروائی کو بربریت قرار دیا اور کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر بچے، عورتیں اور بڑی عمر کے لوگ تھے۔ امریکی فوج نے اس بات کی تردید کی کہ اس واقعے میں عام شہری بھی مارے گئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد