عراق:’شہریوں پر فائرنگ بلاجواز‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی حکام نےکہا ہے کہ گزشتہ ماہ فائرنگ کے ایک واقعے میں جس میں امریکی فرم بلیک واٹر ملوث تھی، اب تک لگائے گئے اندازوں سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ اس میں گیارہ عراقی ہلاک ہوئے تھے لیکن اب حکومت نے کہا ہے کہ بلیک واٹر فرم کے گارڈوں کی فائرنگ سے سترہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ عراقی تفتیش کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بلیک واٹر فرم کے اہلکاروں پر فائرنگ نہیں کی گئی تھی۔
عراقی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ بلیک واٹر فرم کی کارروائی دانستہ قتل کے زمرے میں آتی ہے۔ یہ واقعہ سولہ ستمبر کو بغداد میں پیش آیا تھا جس میں تئیس افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم نور المالکی کی طرف سے قائم جانے والی تفتیشی کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ بلیک واٹر فرم کا کارواں براہ راست یا بالواسطہ کسی حملے کی زد میں آیا تھا۔ ’اس پر ایک پتھر بھی نہیں پھینکا گیا۔‘ بلیک واٹر کے بانی ایرک پرنس نے کہا کہ ان کے عملے نے اس سفارتی کارواں پر حملے کے بعد دفاع میں فائرنگ کی تھی جو عملے کی حفاظت میں جا رہا تھا۔ بلیک واٹر امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے عراق میں وزارت کے عملے اور دورے پر آنے والے دیگر حکام اور کاروباری افراد کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک اہم فرم ہے۔ بی بی سی کی ایک نامہ نگار نے کہا کہ عراق میں تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داریاں نجی کمپنیوں کو دینا امریکہ اور عراق دونوں میں سیاسی طور پر ایک متنازعہ مسئلہ ہے۔ | اسی بارے میں ’بلیک واٹر‘ کے خلاف تحقیقات23 September, 2007 | آس پاس امریکی سفارتکار، زمینی سفرپر پابندی19 September, 2007 | آس پاس شہریوں پر حملہ، تحقیقات ہوں گی18 September, 2007 | آس پاس قاتلوں کو نہیں چھوڑیں گے: بریمر01 April, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||