’بلیک واٹر‘ کے خلاف تحقیقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی سفارت کاروں کو سکیورٹی فراہم کرنے والی نجی کمپنی بلیک واٹر کے خلاف اسلحہ کی اسمگلنگ کے الزامات کی تحقیقات ہو رہی ہیں تاہم کمپنی نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ امریکی کمپنی بلیک واٹر کا تردیدی بیان ایک تحقیقاتی رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بلیک واٹر کے کچھ اہلکار عراق میں غیر قانونی اسلحہ اسمگل کر رہے تھے۔ یہ اسلحہ ان لوگوں کے استعمال میں بھی آ سکتا ہے جنہیں امریکی حکومت دہشت گرد قرار دیتی ہے۔ بلیک واٹر پر الزام ہے کہ گزشتہ اتوار کو بغداد میں ہونے والی ایک جھڑپ کے دوران انہوں نے گیارہ شہری ہلاک کر دیئے تھے۔ امریکی ریاست نارتھ کیرولاینہ سے تعلق رکھنے والی اس کمپنی نے جس کی خدمات امریکی وزارتِ خارجہ نے سفارت کاروں کی حفاظت کے حاصل کی تھیں کہا ہے کہ اس کے اہلکاروں نے اپنی حفاظت میں گولی چلائی تھی۔ عراقی حکام نے اتوار کو بلیک واٹر کے اہلکاروں کے ہاتھوں گیارہ شہریوں کی ہلاکت کے بعد اس سے عراق میں کام کرنے کا لائسنس واپس لے لیا تھا جسے جمعہ کو جزوی طور پر بحال کر دیا گیا۔ دریں اثناء عراقی وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ وہ چھ ایسے اور واقعات کی تحقیقات کر رہی ہے جن میں مبینہ طور پر بلیک واٹر کے اہلکاروں کے ہاتھوں دس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اسلحہ کی اسمگلنگ کے الزامات کی خبریں نارتھ کیرولاینہ کے اخبارات ’نیوز‘ اور ’ابزرور‘ اخبارات میں شائع ہوئی ہیں۔ ان خبروں میں نامعلوم ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکی حکام اس بات کی تحقیق کر رہے ہیں کہ آیا بلیک واٹر کے کچھ اہلکار عراق میں ہتھیار جن میں نائٹ ویژن سکوپ، بلٹ پروف جیکٹس اور بندوقیں وغیر شامل ہیں اسمگل کر رہے تھے۔ اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ بلیک واٹر کے لیے کام کرنے والے دو سابق اہلکاروں نے جنوری میں گرین وائل نارتھ کیرولاینہ میں ہتھیار اسمگل کرنے کے الزامات کا اعتراف کیا تھا اور اب وہ حکومتی اہلکاروں سے تعاون کر رہے ہیں۔ ہفتے کو جاری ہونے والے بیان میں بلیک واٹر نے ہتھیار اسمگل کرنے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ کمپنی کو اس بات کا کوئی علم نہیں کہ اس کا کوئی ملازم کسی طرح بھی اسلحہ کی اسمگلنگ میں ملوث تھا۔ تاہم کمپنی نےاس بات کی تصدیق کی کہ اس کے دو ملازموں کو کمپنی سے ساز و سامان چوری کرنے کے الزام میں ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ کمپنی کے خلاف اسلح اسمگل کرنے کے الزامات گزشتہ ہفتے وزارتِ خارجہ کے انسپکٹر جنرل ہاورڈ کورنگارڈ کے تحریری بیان میں لگائے جانے کے بعد عام ہوئے تھے۔ اس سال جولائی میں ترکی نے امریکہ سے شکایت کی تھی کہ انہوں نے کردستان ورکرز پارٹی کے اہلکاروں سے جسے امریکہ دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے امریکی ساخت کا اسلح پکڑا گیا ہے۔ سرکاری سطح پر اس بات کی تحقیق کی جا رہی ہے کہ بلیک واٹرز کی طرف سےاسمگل کیا جانے والا اسلح بلیک مارکیٹ میں فروخت ہوا ہو اور وہ کردستان ورکز پارٹی کہ ہاتھ لگ گیا ہو۔ | اسی بارے میں شہریوں پر حملہ، تحقیقات ہوں گی18 September, 2007 | آس پاس امریکی سفارتکار، زمینی سفرپر پابندی19 September, 2007 | آس پاس پناہ گزینوں کی اذیتیں، امدادی کارکن متاثر20 September, 2007 | آس پاس امریکی فوجیوں کو چھٹی نہیں20 September, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||