مارٹن پیشنس بی بی سی نیوز، دمِشق |  |
 | | | دمشق میں ایک لاکھ بیس ہزار پناہ گزین رجسٹریشن کراچکے ہیں |
’میں ایک خاندان کی مدد کر رہی تھی، ہوا یہ تھا کہ ملیشیا کے تین اراکین نے ایک شخص کو باندھ دیا اور اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی بیوی اور بیٹی کی عصمت دری کی۔‘ یہ الفاظ ہیں چھبیس سالہ کیرولائن عبداللہ کے جو اقوام متحدہ کی ایک رجسٹریشن کلرک ہیں۔ وہ بتاتی ہیں: ’ملیشیا کے اس حملے میں اس شخص کی بیوی ہلاک ہوگئی جبکہ اس کی بیٹی ذہنی مسائل سے گزر رہی ہے۔‘ ’آپ کو ایسی کافی دردناک کہانیاں سننے کو ملیں گی، ایسے سلوک جو آپ نہیں سوچ سکتے کہ ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ کرسکتا ہے۔‘ کیرولائن عبداللہ اور ان کے ساتھیوں کا روز مرہ کا کام ایسی ہی کہانیاں سننے کا ہے۔ وہ دمشق میں پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کے لیے کام کرتی ہیں۔ وہ عراقی پناہ گزینوں کی اذیتیں، ریپ کے واقعات، تشدد اور ہلاکتوں کی واردات اقوام متحدہ کے لیے قلم بند کرتی ہیں۔ اس طرح کے انٹرویو کے لیے اقوام متحدہ نے چالیس کمرے بنائے ہیں جہاں عراقی پناہ گزین پردے میں اپنی روداد بیان کرتے ہیں۔ اسی سال اقوام متحدہ نے اپنا یہ دفتر دمشق کے مضافات میں ایک بڑی عمارت میں منتقل کیا ہے کیونکہ پناہ گزینوں کے رجسٹریشن کی زیادہ درخواستیں موصول ہونے لگی تھیں۔  | امدادی اہلکار بھی متاثر  اب تک لگ بھگ ایک لاکھ بیس ہزار عراقی پناہ گزینوں اپنا رجسٹریشن کروا چکے ہیں جس سے انہیں غذائی اور طبی امداد ملنے لگتی ہے۔ لیکن انہیں اپنے انٹرویو کے لیے لگ بھگ چھ ماہ انتظار کرنا پڑتا ہے جو کہ ان کے لیے اعصاب شکن تجربہ ہے۔  |
اب تک لگ بھگ ایک لاکھ بیس ہزار عراق پناہ گزینوں اپنا رجسٹریشن کراچکے ہیں جس سے انہیں غذائی اور طبی امداد ملنے لگتی ہے۔ لیکن انہیں اپنے انٹرویو کے لیے لگ بھگ چھ ماہ انتظار کرنا پڑتا ہے جو کہ ان کے لیے اعصاب شکن تجربہ ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق ہر چوتھا عراقی پناہ گزین تشدد کا شکار ہوا ہے۔ انٹرویو کے دوران جو دردناک واقعات سننے کو ملتے ہیں ان سے اقوام متحدہ کے اہلکار بھی متاثر ہوجاتے ہیں۔ کبھی کبھی متاثرین اپنے کپڑے ہٹاکر اپنے زخم بھی دکھاتے ہیں۔ یہ سب دیکھ کر اقوام متحدہ کے اہلکار بھی ذہنی پریشانی اور ڈیپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ تھیوڈرا سویلی، جو اقوام متحدہ کے لیے ماہر نفسیات کے طور پر کام کرتی ہیں، بتاتی ہیں کہ اہلکار ’حادثے کے بعد کی ذہنی پریشانی‘ کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہوسکتا ہے کہ بعض اہلکار اپنے تجربات بڑھا چڑھاکر پیش کرتے ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ لوگ عراقی پناہ گزینوں کے تجربات کو پھر سے جی رہے ہیں۔‘ اقوام متحدہ کے اہلکاروں کو اپنے تجربات کے بارے میں ایک دوسرے سے بات کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور بعض اوقات وہ اپنی ذہنی پریشانیاں دور کرنے لیے ایک ساتھ سفر پر جاتے ہیں۔ ان کا کام کافی حد تک اعصابی تناؤ کا باعث ہے۔ اس کے باوجود یہ اہلکار پناہ گزینوں کی مدد کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ پچیس سالہ ثمیر شموطی بھی اقوام متحدہ کے لیے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا: ’ایک پناہ گزین نے مجھ سے کہا کہ اسے اس بات کی فکر نہیں کہ اس انٹرویو کے بعد کیا ہوگا، اسے صرف اس بات پر خوشی تھی کہ اس نے مجھ سے ملاقات کرکے اپنی باتیں کر لیں۔‘ |