عراقی شہری کے قتل پر15 برس قید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک امریکی فوجی کو شدت پسندوں کی تلاشی کے آپریشن کے دوران ایک عراقی شہری کے قتل کے جرم میں پندرہ برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ سارجنٹ لارنس ہچنز کو ملازمت سے برخاست بھی کر دیا گیا ہے۔ انہیں جمعرات کو فوجی عدالت نے قتل کی سازش اور غیر ارادی قتل کا مجرم قرار دیا تھا۔ لارنس ہچنز اس یونٹ کے سربراہ تھے جس نےگزشتہ برس حمدانیہ میں تلاشی کے عمل کے دوران ایک باون سالہ عراقی ہاشم ابراہیم عواد کو قتل کر دیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق سارجنٹ ہچنز کی قیادت میں کام کرنے والی اس یونٹ نے ان کے ہمسائے کے رہائشی مشتبہ شدت پسند کی تلاش میں ناکامی کے بعد ہاشم عواد کو ان کےگھر سے اغواء کیا اور پھر ایک گڑھے کے پاس لے جا کر دس مرتبہ ان کے سر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ استغاثہ کے مطابق ہاشم عواد کو ہلاک کرنے کے بعد سارجنٹ ہچنز نے ان کی لاش کے پاس ایک بندوق اور ایک پھاؤڑا رکھ دیا تاکہ انہیں ایک ایسا شدت پسند ثابت کیا جا سکے جو سڑک کے کنارے بم نصب کرنا چاہتا تھا۔ لارنس ہچنز کی یونٹ کے ایک اور ممبر مارشل میگنکالڈا کو بھی فوجی عدالت نے قتل کی سازش کا مجرم قرار دیتے ہوئے ملازمت سے برخاست کر دیا تاہم انہیں پہلے ہی چار سو اڑتالیس دن قید کاٹنے کی وجہ سے رہا کر دیا گیا۔ مارشل میگنکالڈا پر عدالت میں غیرارادی قتل کا الزام ثابت نہیں ہو سکا لیکن انہیں چوری اور ڈاکہ زنی کا مجرم قرار دیا گیا۔اس یونٹ کے پانچ ممبران کو پہلے ہی ایک سے آٹھ برس کے درمیان قید کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔ | اسی بارے میں میرین فوجیوں کیخلاف مقدمہ قتل26 September, 2006 | آس پاس امریکی فوجی کو سو سال قید23 February, 2007 | آس پاس امریکی فوجیوں پر قتل کا مقدمہ22 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||