’موسیٰ قلعہ:شہری ہلاک ہوئے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے جنوب مغربی شہر موسیٰ قلعہ میں مقامی لوگوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس ہفتے کے آغاز میں افغان اور نیٹو فوج کے طالبان کے خلاف آپریشن میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔ موسیٰ قلعہ کی طالبان سے بازیابی کے چار روزہ آپریشن کے بعد بی بی سی کے نامہ نگار جب وہاں پہنچے تو ایک شہری نے بتایا کہ انہوں نے خود ایک گلی میں پندرہ خواتین اور بچوں کی لاشیں پڑی ہوئی دیکھیں۔ جھڑپوں کے دوران ہجرت کرنے والے شہری اب واپس گھروں کو لوٹ رہے ہیں اور شدید بمباری کی وجہ سے موسیٰ قلعہ میں تباہی پھیلی ہوئی ہے۔
ان تازہ اطلاعات کے برعکس افغان حکام نے موسیٰ قلعہ میں شہریوں کا جانی نقصان کہیں کم بتایا تھا جبکہ برطانوی حکام کا کہنا تھا کہ ان جھڑپوں میں دو بچے ہلاک ہوئے۔ برطانوی حکام نے علاقے میں مسجد، سکول اور صحت کا مرکز بنانے کی پیشکش کی ہے لیکن ایک شخص نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تحفظ چاہیے۔ گیارہ سالہ اختر محمد نے جو لڑائی کے دوران شہر میں ہی موجود تھے بتایا کہ ان کے خاندان کے کئی افراد ہلاک ہوئے جن کی لاشیں ’ملبے کے نیچے دبی ہوئی ہیں‘۔ موسیٰ قلعہ میں افغانستانی فوج موجود رہے گی جنہیں برطانوی فوجی اڈے کی مدد حاصل ہو گی۔ طالبان کے شہر کے جانے کے بعد سے وہاں روزانہ راکٹوں کے حملے ہوتے ہیں۔ موسیٰ قلعہ سے رابطہ انتہائی مشکل ہے۔ یہ شہر رسد کی فراہمی کے ایک راستے کے سِرے پر واقع ہے اور مزاحمت کاروں کے نشانے پر رہتا ہے۔ | اسی بارے میں موسیٰ قلعہ پر کنٹرول کی کوششیں08 December, 2007 | آس پاس موسیٰ قلعہ: دو طالبان رہنماء گرفتار10 December, 2007 | آس پاس موسیٰ قلعہ پر طالبان کا قبضہ ختم11 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||