موسیٰ قلعہ: دو طالبان رہنماء گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوبی صوبے ہلمند کے علاقے موسیٰ قلعہ میں شدید لڑائی کے بعد طالبان کے دو اہم رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ افغان وزارتِ دفاع کے ایک بیان کے مطابق گرفتار طالبان رہنماؤں کے نام ملا متین اخوند اور ملا رحیم اخوند ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ موسیٰ قلعہ کو طالبان کے قبضے سے چھڑوانے کے لیے افغان اور نیٹو افواج کوششیں اب تک کامیابی سے جاری ہیں۔ افغان جنرل محمد ظاہر عظیمی کا کہنا ہے کہ میدان جنگ سے آنے والی اطلاعات کے مطابق دشمن کے کے زیادہ تر سپاہی ہتھیار پھینک کر علاقہ چھوڑ رہے ہیں۔ تاہم ان کے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ موسیٰ قلعہ افغانستان میں واحد قابل ذکر شہر ہے جو طالبان کے کنٹرول میں ہے۔ اطلاعات کے مطابق اب تک کی لڑائی میں بارہ طالبان، دو بچے اور ایک ایک برطانوی اور نیٹو فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
افغان اور نیٹو افواج جمعہ سات دسمبر سے موسیٰ قلعہ کو طالبان کے قبضے سے چھڑوانے کے لیے ایک بڑی کارروائی شروع کیے ہوئے ہیں۔ طالبان نے اس سال فروری میں موسیٰ قلعہ پر قبضہ کر لیا تھا۔ کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لوئن کے مطابق طالبان کے قبضے کے بعد سے موسیٰ قلعہ افغانستان میں منشیات کے کاروبار کا گڑھ بن گیا ہے۔ طالبان نے ہلمند کے گورنر کی طرف سے ہتھیار پھینکنے کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔ طالبان نے شہر کے دفاع کے لیے بڑی تعداد میں بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں۔ | اسی بارے میں موسیٰ قلعہ پر کنٹرول کی کوششیں08 December, 2007 | آس پاس ُموسٰی قلعہ میں فوجی آپریشن جاری04 December, 2007 | آس پاس چالیس طالبان کی ہلاکت کا دعوٰی01 September, 2007 | آس پاس موسٰی قلعہ پر بات چیت نہیں: طالبان06 February, 2007 | آس پاس طالبان سے قبضہ چھڑانے کی تیاری03 February, 2007 | آس پاس طالبان کا قبضہ اور حکومتی تردید02 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||