افغان شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بین الاقوامی امدادی ادارے ریڈ کراس نے کہا ہے کہ گزشتہ چھ دنوں میں افغانستان میں شدت پسند کے حملوں اور فوج کارروائیوں میں ڈھائی سو افغان شہری ہلاک اور زخمی ہو ئے ہیں۔ ریڈ کراس نے افغانستان میں سرگرم تمام عناصر سے اپیل کی ہے کہ شہریوں کی ہلاکتوں سے بچا جائے۔ نیٹو کے مطابق سن دو ہزار آٹھ میں افغانستان میں شہریوں سمیت نو سو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ گزشتہ سوموار کو کابل میں ایک خود کش حملے میں چالیس افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ حکام کےمطابق اتحادی فوج کے فضائی حملوں میں کئی درجن افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ افغانستان میں شہریوں کی ہلاکتوں کا معاملہ بہت سنگین ہوچکا ہے۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی متعدد مرتبہ غیر ملکی فوجیوں کو احتیاط سے کام لینے کی نصیحت کر چکے ہیں۔
انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس نے اپنے بیان میں کہا کہ شہریوں کو کسی قیمت پر نشانہ نہیں بنایا جانا سکے جب تک کہ وہ لڑائی میں براہ راست حصہ لیں۔ کابل میں ریڈ کراس کے سربراہ فارنز راوچیسٹین نے بھارتی سفارت خانے کے باہر بم دھماکے کے بعد یہ بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا تھا ملک کے مشرقی حصے میں امریکہ کے زیرِ قیادت فارنز راوچیسٹین نے اس تنازع میں شامل تمام عناصر سے کہا ہے کہ وہ کسی بھی فوجی کارروائی کرنے سے پہلے پوری طرح یہ یقین دہانی کر لی جائے کہ اس کارروائی کا نشانہ جنگی اہداف ہی ہیں۔ اس بیان میں اتحادی فوج کی طرف سے ملک کے مشرقی حصہ میں فضائی حملوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کابل میں بھارتی سفارت خانے کے باہر ہونے والے دھماکے سے طالبان نے لا تعلقی کا اظہار کیا ہے جبکہ امریکی فوج نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ مشرقی افغانستان میں فضائی حملے میں متعدد شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ صدر حامد کرزئی نے نگر ہار صوبے میں فضائی حملے میں ہلاکتوں کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ | اسی بارے میں افغانستان: ہلاکتیں، متضاد اطلاعات05 July, 2008 | آس پاس ’امریکی بمباری، 22 شہری ہلاک‘06 July, 2008 | آس پاس ’امداد افغان تعمیرِ نو پر خرچ کریں‘06 July, 2008 | آس پاس طالبان نے امریکی ہیلی کاپٹر مار گرایا02 July, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||