BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 July, 2008, 12:03 GMT 17:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شادی کی تقریب پر امریکی بمباری

امریکی بمباری میں مرنے اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں
مشرقی افغانستان کے اونچے پہاڑوں پر عین اس جگہ تین مسخ شدہ گاڑیوں کے ڈھانچے پڑے ہوئے تھے جہاں امریکی بم گرے تھے۔

اسی جگہ تڑے مڑے دھاتی پرزے، خون کے دھبے اورافغانستان میں دلہنوں کے لیے مخصوص سجاوٹ سے آراستہ شوخ رنگ کے کپڑوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے۔

ننگرھار کے پہاڑوں میں دور افتادہ گاؤں پہنچنے کے لیے گھنٹوں پر محیط اس سفر میں ہم نے اس اندوہناک واقعے کی تفصیل کئی لوگوں سے سنی۔

شادی کی جو تقریب خوشیاں منانے کے لیے شروع ہوئی تھی وہ باون لوگوں کی ہلاکت پر اختتام پذیر ہوئی۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے شدت پسندوں پر بمباری کی تھی لیکن میں نے اپنی آنکھوں سے جو کچھ دیکھا اور جو مرنے والوں کے لواحقین سے جو سنا ہلاک ہونے والوں میں کوئی ایک بھی جنگجو نہیں تھا۔

سولہ جولائی کے اس دن وٹے سٹے کے اصول پر دو بڑی شادیاں منعقد کی جا رہی تھیں جس میں ہر ایک خاندان ایک دلہن رخصت کرہا تھا اور ایک کا استقبال ہورہا تھا۔

مرنے والوں کے لواحقین میں لال زرین اور اس کا بیٹا شا زرین شامل ہیں

اس لحاظ سے لال زرین کے ایک بیٹے اور بیٹی کے شادی ایک ہی دن ہو رہی تھی۔

اپنے دلہا بننے والے تیرہ سالہ بیٹے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے غم سے نڈھال لال زرین نےحال سناتے ہوئے کہا کہ’ میرے پاس خاندان کے نام پر اب صرف یہ بیٹا رہ گیا ہے۔،

لال زرین نے واقعے کی جو تفصیل سنائی اور دوسرے لوگوں سے جو کچھ میں نے سنا اس کے مطابق باراتی ایک ایسے پہاڑ پر تنگ سڑک سے گزر رہے تھے جو کہ دونوں خاندانوں کی وادیوں کو الگ کرتا ہے۔

باراتیوں میں شریک بچوں نے جو کہ اپنی بے صبری کے سبب خواتین سے کافی نکل گئے تھے ایک جگہ آرام کی خاطر بیٹھے باقی خواتین کا انتظار کررہے تھے کہ اسی دوران ایک جیٹ طیارہ نیچے پرواز کرتے ہوئے ان بچوں کے قریب بم گراتے ہوئے گزر گیا۔

لال زرین نے ’ جو کہ اپنے گھر میں باراتیوں کے استقبال کے لیے انتظار کر رہا تھا، دھماکے کی آواز سنتے ہی گھر سے نکل کر اس دشوار گزار چوٹی کی طرف بھاگنا شروع کر دیاجہاں سے باراتیوں کو گزرنا تھا۔

جبکہ شاہ زرین پہلے ہی باراتیوں کے ساتھ تھا اور پہلے دھماکے میں بچ جانے کے بعد وہ خواتین کو وہی روک کر جہاں وہ تھیں، بچوں کی مدد کے لیے لپکا۔

شاہ زرین ایک زخمی کو لے کر گاؤں کی طرف بھاگا اور راستے میں پارلیمنٹ کے مقامی ممبر کو موبائل پر خود پر ہونے والے حملے کی اطلاع دی۔

اسی لمحے اس نے دوسرے دھماکے کی آواز سنی جو کہ خواتین کے اوپر گرایا گیا اور اس میں تقریبا تمام خواتین ہلاک ہو گئیں۔

دلہن سمیت صرف تین لڑکیا ں جان بچاتے ہوئے وہاں سے بھاگنے لگیں لیکن جونہی انہوں نے پہاڑی سے نیچے اترنے کی کوشش کی تیسرا بم ان کے سروں پر گرایا گیا اور ان میں سے کسی کی جان نہ بچ سکی۔

شاہ زرین نے مجھے ان نئی کھودی گئی قبروں کے بارے میں بتایا جس میں سے صرف دو یا تین کے جسم کے ٹکڑے دفنائے گئے ہیں جبکہ باقی قبریں کھودی تو گئی ہیں لیکن ابھی تک باقی افراد کے جسم کے حصے نہ ملنے تک کھلی پڑی ہیں۔

بی بی سی کی ٹیم جس میں میں شامل ہوں باہر سے آئے ہوئے وہ پہلے لوگ ہیں جنہوں نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور یہاں آنے کے بعد پتہ چلا کہ یہاں کافی ایسے شواہد موجود ہیں جس سے ان لوگوں کے معصوم ہونے کا ثبوت ملتا ہے لیکن اب تک افغان تفتیش کار تک اس دشوار گزار چوٹی پر نہیں چڑھے۔

عام گاڑیوں میں ہمارا اس گاوں تک کا سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ ان وادیوں میں نہ تو طالبان ہیں نہ القاعدہ کے ارکان اور نہ ہی کوئی غیر ملکی جنگجو۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہاں کبھی کوئی جنگجو نہیں دیکھے لیکن وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ جنگجوؤں کے لیے بدنام تورہ بورہ کی پہاڑیوں تک پہنچنے کے لیے عسکریت پسند اس پاس کا ستعمال کرتے رہے ہوں گے۔

امریکہ کی قیادت میں اتحادی فوج کی ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ بھی اس واقعے کی تفتیش کر رہے ہیں۔ تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ چھ جولائی کو امریکی فوج سے ایک بری غلطی سر زد ہوئی ہے۔

ان ہلاکتوں پر ایک امریکی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’معصوم جانوں کا ضیاع قابل افسوس ہے۔اتحادی فوج کے لیفٹیننٹ ناتھن پیری کا کہنا ہے کہ ’ہم غیر عسکری لوگوں کو نشانہ نہیں بناتے۔ ہم پوری کوشش کرتے ہیں کہ شہریوں کا جانی نقصان نہ ہو‘۔

امریکی اہلکار اب اس بات پر اصرار نہیں کررہے کہ ہلاک ہونے والے شدت پسند تھے جیسا کہ وہ بمباری کے دو دن بعد تک کرتے رہے لیکن یہ ایک ایسے وقت میں ہے جب کہ تفتیش ابھی مکمل نہیں ہوئی۔

ننگر ھار میں شہری ہلاکتیں کوئی نئی بات نہیں گزشتہ سال ایک بم دھماکے میں امریکی فوجیوں کے ایک قافلے پر بم حملے کے بعد انہوں نے معصوم شہریوں پر فائرنگ شروع کر دی تھی جس میں انیس لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔

ان فوجیوں کو گھر بھیج دیا گیا تھا اور ان کے افسروں پر جرمانہ عائد کیا گیا تھا تاہم بعد میں انہیں ان ہلاکتوں سے بری الذمہ قرار دے دیا گیا تھا۔

ایک مقامی ممبر پارلیمان میرویس یاسینی کا کہنا ہے کہ شہریوں کی ہلاکت افعانستان کے عوام حکومت اور بین الاقوامی فوج کے مابین فاصلے بڑھا رہی ہے۔

لال زرین کا کہنا تھا کہ ’ میں چاہتا ہوں کہ صدر حامد کرزئی ان ہلاکتوں کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔،

لیکن اس کا دار و مدار امریکی تحقیقات اور اس پر حامد کرزئی کی حکومت کے رد عمل پر ہے۔

میں واپسی پر یہی سوچتا رہا کہ ننگھار میں ہونے والے اس خون خرابے کی وجہ سے امریکی فوج نے اپنے لیے کتنے نئے دشمن بنا لیے ہیں؟۔

بی بی سی کے نامہ نگار السٹر لیتھیڈ وہ پہلے صحافی ہیں جو مشرقی افغانستان میں چھ جولائی کو امریکی حملے میں ہلاک ہونے والے پچاس شہریوں کی ہلاکت کے بعد ان کے لواحقین سے ملے۔ انہوں نے وہاں جو دیکھا اس حوالے سے یہ پورٹ بھیجی۔

اسی بارے میں
نو امریکی فوجی ہلاک
13 July, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد