نو امریکی فوجی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سرحد کے قریب افغانستان کے کنڑ صوبے میں طالبان کے ساتھ شدید لڑائی میں کم سے کم نو امریکی فوجی مارے گئے ہیں۔ اس کا ایک فوجی ہلمند صوبے میں ہلاک ہوا۔ اتوار کو شمال مشرقی افغانستان کے صوبہ کنڑ میں امریکی فوجیوں پراسلامی شدت پسندوں کے بڑے حملے کی نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں جن کے مطابق اس حملے نو امریکی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ تیرہ بین الاقوامی اور افغان فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ اس حملے میں لگ بھگ ایک سو طالبان جنگجوؤں نے کئی حمایتیوں کے ساتھ پاک افغان سرحد کے قریب امریکی چوکی پر حملہ کیا اور ان میں سے کئی حملہ آور امریکی اڈے کے اندر گھس گئے۔ نیٹو کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ طالبان کے حملے کو پسپا کرنے کے لیے جنگی جہاز اور ہیلی کاپٹر مدد کے لیے بلائے گئے۔ اس حملے میں نیٹو ترجمان کے مطابق طالبان کے کئی جنگجو ہلاک و زخمی ہوئے۔ ایک امریکی فوجی ترجمان کے مطابق ہلمند میں دو دن سے جاری لڑائی میں کم سے کم چالیس طالبان مارے گئے ہیں۔ ماضی قریب میں امریکی فوج کا ایک ہی دن میں یہ سب سے زیادہ جانی نقصان ہے۔ افغانستان میں تعینات بین الاقوامی فوج ایساف کے مطابق کنڑ میں امریکی افواج اور عسکریت پسندوں کے درمیان کئی گھنٹے تک لڑائی جاری رہی۔ لڑائی میں ایساف کے پندرہ اور افغان فوج کے چار جوان زخمی بھی ہوئے۔ اس برس افغانستان میں ایک سو تینتیس غیر ملکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب طالبان نے صبح سویرے کنڑ میں فوج کی ایک چوکی پر حملہ کر دیا۔ امریکی اور افغان فوج پر یہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا جب کئی محاذوں پر شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
افغان حکام کے مطابق اس حملے میں کئی شہری اور شدت پسند بھی ہلاک ہوئے۔ نیٹو کے مطابق طالبان نے یہ حملہ چھوٹے ہتھیاروں سے کیا جن میں مشین گنیں، راکٹ سے داغے جانے والے بم اور مارٹر شامل تھے۔ طالبان اس حملے کےدوران مسجدوں اور گھروں میں مورچہ بند تھے۔ آئسیف کے بیان کے مطابق کئی گھنٹے کی لڑائی کے بعد حملہ آوروں کو پسپا کر دیا گیا اور انہیں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس وقت افغانستان میں 53 ہزار غیر ملکی فوجی موجود ہیں جن میں سے زیادہ تر امریکی ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق لڑائی ننگرہار صوبے کے قریب ہوئی جہاں ایک ہفتہ قبل امریکی فوج کے فضائی حملے میں افغان حکومت کے مطابق 47 عام شہری ہلاک ہو گئے تھے جن میں زیادہ تر عورتیں اور بچے تھے۔ لیکن امریکی فوج کا دعوی تھا کہ اس نے طالبان کو نشانہ بنایا تھا۔ ادھر ملک کے جنبوب میں ایک خود کش حملہ آور نے چوبیس افراد کو ہلاک کر دیا۔ یہ حملہ اروزگان صوبے میں کیا گیا۔ اروزگان کے پولیس سربراہ کے مطابق مرنے والوں میں چار پولیس والوں کے علاوہ سبھی عام شہری تھے۔ | اسی بارے میں امریکی حملہ، نشانہ بنے بچے، عورتیں11 July, 2008 | آس پاس افغانستان دھماکہ، اکیس ہلاک13 July, 2008 | آس پاس افغان شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش10 July, 2008 | آس پاس افغانستان: ہلاکتیں، متضاد اطلاعات05 July, 2008 | آس پاس طالبان حملوں میں اضافہ ممکن:امریکہ28 June, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||