سویلین ہلاکتوں کی ازسرنو تحقیق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں تعینات امریکی فوج نےگزشتہ ماہ صوبہ ہرات میں بمباری کے نتیجے میں عام شہریوں کی مبینہ ہلاکت کی تحقیقات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ حملے کے بارے میں نئے شواہد سامنے آئے ہیں جس کی وجہ سے واقعے کی از سرِ نو تحقیقات ضروری ہو گئی ہیں۔ بمباری کے دو ہفتے بعد تک امریکی فوج یہ کہتی رہی ہے کہ حملے میں ہلاک ہونے والوں میں صرف سات عام شہری اور پینتیس شدت پسند شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ امریکی بمباری کے بعد بنائی جانے والی وڈیو میں بچوں کی لاشیں بھی دکھائی گئی ہیں۔ موبائل فون سے بنائی جانے والی وڈیو میں درجنوں لاشیں نظر آ رہی ہیں جس سے مقامی افراد کے اس دعوے کو تقویت ملتی ہے کہ بمباری کے نتیجے میں نوے عام شہری ہلاک ہوئے۔ وڈیو میں عورتوں اور بچوں سمیت حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو صوبہ ہرات کے گاؤں عزیز آباد کی مسجد میں رکھا ہوا دکھایا گیا ہے۔ اس گاؤں کو زمینی کارروائی اور فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی فوج اور اقوام متحدہ پہلے ہی اس حملے کی اپنی اپنی سطح پر تفتیش کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وڈیو کی شہادت اور گاؤں میں بڑی تعداد میں نئی قبروں کی موجودگی سے مقامی افراد کے دعوے کی تصدیق ہوتی ہے۔
ابھی تک امریکی فوج اس بات پر اصرار کرتی رہی ہے کہ حملے میں کم تعداد میں عام شہری ہلاک ہوئے اور یہ کہ طالبان کے خلاف یہ کارروائی انتہائی کامیاب رہی۔ تاہم اتوار کو افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر ڈیوڈ میکیرنن نے کہا ہے کہ نئے شواہد کی روشنی میں امریکی تحقیقات کو از سرِ نو شروع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی بار بار امریکہ اور نیٹو کو خبر دار کرتے رہے ہیں کہ عام شہریوں کی ہلاکت سے ان کی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے اور ملک میں موجود غیر ملکی افواج کی شہرت خراب ہوتی ہے۔ |
اسی بارے میں امریکی حملے پر نکتہ چینی23 August, 2008 | آس پاس ’حملے میں ساٹھ بچے ہلاک ہوئے‘26 August, 2008 | آس پاس ایساف پر نظرثانی ضروری26 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||