’حملے میں ساٹھ بچے ہلاک ہوئے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے مغربی افغانستان میں امریکہ کے ایک فضائی حملے میں نوے کے لگ بھگ شہری ہلا ک ہو ئے جن میں زیادہ تر عورتیں اور بچے تھے۔ افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کائی ایدی کا کہنا ہے کہ اس بات کے قابل اعتبار شواہد ملے ہیں جو عینی شاہدوں اور دیگر متعلقہ افراد سے ان کی بات چیت پر مبنی ہیں۔ اس سے پہلے امریکی فوجی ترجمان نے دو عورتوں اور تین بچوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ حملہ ہرات صوبے میں طالبان کے ٹھکانوں پر کیا گیا تھا جس میں تیس عسکریت پسند بھی مارے گئے تھے۔ صدر حامد کرزئی نے اس واقعہ کے سلسلے میں دو افغان فوجی افسران کو برخاست کر دیا تھا۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس فوجی کارروائی کی قیادت افغان فورسز نے کی تھی۔ اس حملے سے افغان حکومت اور غیر ملکی افواج کے درمیان تعلقات مزید خراب ہوئے ہیں۔ پیر کے روز افغان حکومت نے کہا تھا کہ وہ غیر ملکی افواج کے افغانستان میں کارروائیاں کرنے کے طریقہ کار کا دوبارہ سے تعین کرنا چاہتی ہے۔ یہ تفتیش افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے کی ہے۔ ’مشن کی تفتیش سے یہ شواہد ملے ہیں، جو عینی شاہدوں اور دوسروں کی شہادت پر مبنی ہیں، کہ اس کارروائی میں تقریباً نوے لوگ ہلاک ہوئے جن میں ساٹھ بچے شامل تھے۔‘ کائی ایدی کے مطابق علاقے میں فضائی بمباری سے ہونے والی تباہی صاف نظر آتی ہے۔ سات آٹھ گھر پوری طرح بتاہ ہوگئے ہیں جبکہ دوسروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب افغان فوجی طالبان سے لڑ رہے تھے اور انہوں نے امریکی مدد طلب کی۔ امریکہ نے کہا ہے کہ وہ بھی اس معاملے کی اپنے طور پر تفتیش کر رہا ہے۔ | اسی بارے میں ’امریکی بمباری، 22 شہری ہلاک‘06 July, 2008 | آس پاس افغانستان میں پانچ نیٹو فوجی ہلاک01 August, 2008 | آس پاس افغانستان: طالبان مزاحمت پرتشویش04 August, 2008 | آس پاس افغانستان: مددگار خواتین ہلاک13 August, 2008 | آس پاس خوست: نیٹو بیس پر حملہ ناکام19 August, 2008 | آس پاس افغانستان میں دس فرانسیسی ہلاک19 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||