خوست: نیٹو بیس پر حملہ ناکام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے شمال جنوبی صوبہ خوست میں نیٹو کی ایک فوجی بیس پر کیے جانے والے حملے میں کم از کم چھ مبینہ خود کش حملہ آور ہلاک ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے کیمپ سالرنو میں داخل ہونے کی ناکام کوشش کی۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ اس کیمپ میں تعینات زیادہ تر فوجی امریکی ہیں۔ اس سے پہلے بھی بین الاقوامی افواج کو پاکستانی سرحد کے قریب واقع کیمپ سالرنو میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے پیر کو نو افغان شہری اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب ایک خود کش حملہ آور نے اسی بیس کے دروازے پر حملہ کیا تھا۔ افغانستان کے یوم آزادی کے موقع پر ہونے والے اس حملے میں تیرہ افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے خوست کے گورنر ارسلا جمال کے حوالے سے بتایا ہے کہ کیمپ سالرنو پر گزشتہ رات طالبان کے تیس حملہ آوروں نے حملہ کیا، جن میں خود کش حملہ آور بھی شامل تھے۔ ارسلا جمال نے کہا کہ ’چھ طالبان خود کش حملہ آور اس وقت ہلاک ہوئے جب انہوں نے خود کو اڑا دیا۔ اس کے علاوہ دو بچے بھی اس حملے میں ہلاک ہوئے جبکہ ایک عورت سمیت تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔‘ نیٹو کی قیادت میں قائم بین الاقوامی سکیورٹی اسِسٹینس فورس (ایساف) نے تصدیق کی ہے کہ کیمپ سالرنو پر راکٹوں اور موٹار گولوں سے حملے کیے گئے اور کئی خود کش حملہ آوروں نے کیمپ پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم ایساف کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد طالبان کے دعوں سے کافی کم تھی۔ اسی دوران منگل کی صبح کابل میں آئی ساف کے صدر دفتر کے قریب دو راکٹ داغے گئے۔ یہ گزشتہ ہفتے میں شہر میں ہونے والا دوسرا حملہ ہے۔ اس سال افغانستان میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور طالبان نے بین الاقوامی اور افغان فوج پر اپنے حملے شدید کر دیے ہیں۔ |
اسی بارے میں افغانستان:امدادی ایجنسیوں کی تنبیہ 01 August, 2008 | آس پاس افغانستان میں پانچ نیٹو فوجی ہلاک01 August, 2008 | آس پاس افغانستان: طالبان مزاحمت پرتشویش04 August, 2008 | آس پاس افغانستان: مددگار خواتین ہلاک13 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||