افغانستان:امدادی ایجنسیوں کی تنبیہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں امدادی کام کرنے والی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ملک میں لڑائی کے پھیلتے ہوئے دائرے کی وجہ سے شاید وہ ان علاقوں میں بھی کام نہ کر سکیں جہاں اب تک ممکن ہے۔ ایک سو مختلف غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال مزاحمت کاروں کے حملوں میں پچاس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امدادی کام کرنے والی تنظیموں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سال اب تک غیر سرکاری تنظیموں کے انیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جو کہ طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے کسی ایک سال میں امدادی کارکنوں کی ہلاکت کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ بیان میں لڑائی میں شہریوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ غیر سرکاری تنظیموں نے زیادہ تر ہلاکتوں کے لیے مزاحمت کاروں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا ہے کہ بین الاقوامی افواج بھی ان کی ذمہ دار ہیں جنہوں نے فضائی طاقت کا استعمال بڑھا دیا ہے۔ آکسفیم انٹرنیشنل کے پالیسی سازی کے مشیر میٹ والڈمین نے کہا کہ افغانستان کو خشک سالی کا سامنا ہے اور اس صورتحال میں امدادی ایجنسیوں کا کام انتہائی اہم ہے۔ | اسی بارے میں افغانستان: امدادی کارروائیاں متاثر 20 November, 2006 | آس پاس افغانستان کی مزید فوجی امداد: نیٹو26 January, 2007 | آس پاس افغانستان: امداد سے زیادہ اخراجات 25 March, 2008 | آس پاس ’پچاس ارب ڈالر کی امداد چاہیے‘ 12 June, 2008 | آس پاس ’امداد افغان تعمیرِ نو پر خرچ کریں‘06 July, 2008 | آس پاس افغانستان: امدادی کارروائیاں معطل02 June, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||