’پچاس ارب ڈالر کی امداد چاہیے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان نے عالمی امداد دینے والے ممالک سے کہا ہے کہ وہ معاشی ترقی کے لیے پچاس ارب ڈالر کی امداد کریں۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے پیرس میں ہونے والی امداد کانفرنس میں پچاس ارب ڈالر کی امداد کی درخواست کی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کو امداد کی اپیل پر کوئی خاطرخواہ رد عمل ظاہر نہیں کیا جائے گا اور افغانستان کو صرف پندرہ ارب ڈالر کی امداد کے وعدے ملنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ امریکہ نے افغانستان کے لیے دس ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے جو اگلے دو سال میں افغانستان کو دی جائے گی۔ سن 2001 میں طالبان کی حکومت کے گرنے کے بعد افغانستان کو امداد دینے والے ممالک کا یہ چوتھا اجلاس ہے۔ ورلڈ بینک کی ایک حالیہ رپورٹ میں افغانستان کو امداد کے وعدے پورے نہ کرنے والے ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ نہ صرف افغانستان کو وعدوں کے مطابق امداد نہیں دی گئی بلکہ جو امداد ملی اس کے ستر فیصد حصے پر افغان حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے اور اس امداد کا بڑا حصہ امدادی ممالک سے تعلق رکھنے والے کنسٹلنٹ کی تخواہوں کی مد میں ان ہی ممالک کو واپس چلا جاتا ہے۔ پیرس میں ہونے والی ایک روزہ کانفرنس میں اسی ممالک شریک ہو رہے ہیں۔ بی بی سی کے عالمی ترقی کے نامہ نگار ڈیوڈ لوئن کا کہنا ہے کہ افغانستان کی پچاس ارب ڈالر امداد کی درخواست پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوگئی اور اسے صرف پندرہ ارب ڈالر کی امداد کے وعدے ملیں گے۔ افغانستان کے بارے میں اقوام متحدہ کے نمائندہ کائے ایدی کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امداد دینے والے ممالک کو مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارے افغانستان کے لوگوں پر بھروسہ نہیں کرتے اور جب تک افغان لوگوں کو ترقیاتی عمل میں شریک نہیں کیا جائے گا، پائیدار ترقی حاصل کرنا ناممکن ہے۔ عالمی ڈونر کانفرنس ایسے وقت ہو رہی ہے جب حامد کرزئی کے عہدے کی معیاد اگلے سال ختم ہو رہی ہے اور وہ ایک بار صدارت کے عہدے کے امیدوار ہیں۔ | اسی بارے میں امداد بحال کر دی جائے گی: امریکہ17 June, 2007 | آس پاس پھنسے پاکستانیوں کیلیے امداد06 February, 2007 | آس پاس غزہ حملوں کاجواب: فلسطین کی امداد 13 November, 2006 | آس پاس بیروت ہوائی اڈے پر امدادی مشن29 July, 2006 | آس پاس غیرملکی امداد سے انکار پر تنقید17 May, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||