غیرملکی امداد سے انکار پر تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ میں فرانس کے سفیر نے کہا ہے کہ برما کی حکومت سمندری طوفان سے متاثرہ افراد کے لیے غیر ملکی امداد قبول نہ کر کے انسانیت کے خلاف جرم کرنے جار ہی ہے۔ ادھر برما کے سرکاری ٹی وی کے مطابق دو مئی کو آنے والے سمندری طوفان ’نرگس‘ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد اٹھہتر ہزار تک پہنچ چکی ہے جبکہ چھپن ہزار اب بھی لاپتہ ہیں۔اس سے قبل برمی حکام نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تینتالیس ہزار بتائی تھی جبکہ اٹھائیس ہزار کو لاپتہ قرار دیا تھا۔عالمی ریڈ کراس کے مطابق اس طوفان میں ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ فرانسیسی سفیر جان موریس ریپرٹ نے بات اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں برمی سفیر کے اس الزام کے جواب میں کہی کہ فرانس نے علاقے میں ایک جنگی جہاز بھیج دیا ہے۔ فرانسیسی سفیر نے کہا کہ اگر غیر ملکی امداد کے تئیں برما کی حکومت کا موجودہ رویہ برقرار رہا تو حالات ایسی نہج پر پہنچ سکتے ہیں کہ’اسے انسانیت کے خلاف ایک بڑا جرم سمجھا جا سکتا ہے‘۔ سمندری طوفان سے متاثرہ برما کے بعض علاقوں سے ایسی اطلاعات ہیں کہ وہاں ضرورت مندوں کو امداد نہیں پہنچ رہی ہے۔متاثرہ علاقے ایراوڈی ڈیلٹا کا دورہ کرنے والی بی بی سی کی ایک نامہ نگار نے بتایا کہ وہاں برمی حکومت کی جانب سے کوئی امداد نہیں پہنچ رہی ہے۔ برما کی فوجی حکومت نے غیرملکی امدادی کارکنوں کے اس متاثرہ علاقے میں جانے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ بی بی سی کی نامہ نگار نتالیا انتالیوا کا کہنا ہے کہ ایرواڈی ڈیلٹا کے کنارے لاشیں سڑ رہی ہیں۔ جبکہ طوفان کے دو ہفتوں کے بعد بھی متاثرین کو پینے کا پانی دستیاب نہیں۔
ادھر برما کی حکومت نے کہا کہ ایمرجنسی امداد کی فراہمی کا مرحلہ ختم ہوگیا ہے اور اب تعمیرِ نو کا کام شروع ہو رہا ہے۔ نتالیہ انتالیوا کے مطابق فوجی حکومت نے بڑے پیمانے پر سابق دارالحکومت رنگون کی صفائی کا کام شروع کیا ہے۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ لگ بھگ پچیس لاکھ متاثرین کے لیے امداد ناکافی ہے۔ برمی حکام نے غیرملکی امداد کا خیرمقدم کیا ہے لیکن صرف چند غیرملکی اہلکاروں کو ملک کے اندر جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ یورپی یونین کی اہلکار لوئیز مشیل نے برمی حکام سے ملاقات کی ہے اور ان پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ امدادی ماہرین کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کی اجازت دیں۔ بین الاقوامی اداروں کے امدادی کارکن ویزہ کے انتظار میں ہیں۔ انسانی امداد سے متعلق اقوام متحدہ کے سربراہ جان ہومس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’حالات حوصلہ شکن‘ ہیں۔ برما کی فوجی قیادت نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ وہ غیرملکی امدادی کارکنوں کو ویزہ نہ دینے کی اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرے گی۔ جمعرات کو سرکاری ملکیت میں شائع ہونے والے نیو لائٹ آف میانمار نامی اخبار نے کہا کہ عوام بین الاقوامی امداد پر انحصار نہیں کریں گے اور قوم کی تعمیر خود ہی کریں گے۔ | اسی بارے میں برما میں طوفان سے پچیس لاکھ متاثر15 May, 2008 | آس پاس ’یو این کا نمائندہ برما جائےگا‘15 May, 2008 | آس پاس چین اور برما: تباہی پر مختلف رد عمل14 May, 2008 | آس پاس برما:طوفان کے بعد بحران کا سامنا11 May, 2008 | آس پاس پابندیوں میں نرمی، امداد پہنچنا شروع12 May, 2008 | آس پاس برما: امداد بحال کرنے کا فیصلہ 09 May, 2008 | آس پاس امداد میں رکاوٹ نہ ڈالیں: اقوامِ متحدہ10 May, 2008 | آس پاس یو این کی امداد برما پہنچ گئی08 May, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||