BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 May, 2008, 07:11 GMT 12:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’یو این کا نمائندہ برما جائےگا‘
نرگس طوفان سے پچیس لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں: اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ برمی حکمرانوں کو بیرونی امداد حاصل کرنے پر قائل کرنے کے لیے وہ اپنا نمائندہ برما بھیج رہے ہیں۔

بان کی مون نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے امدادی خوراک کے چیف جان ہومز ایک امدادی قافلہ کے ہمراہ برما جائیں تاکہ طوفان سے متاثرہ لوگوں کو امداد فراہم کی جا سکے۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کےمطابق بارہ روز پہلے برما میں آنے والے نرگس طوفان سے کم از کم پچیس لاکھ متاثر ہوئے۔

برمی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اڑتیس ہزار پانچ سو لوگ ہلاک ہوئے جبکہ ابھی ستائیس ہزار لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے برما کے متاثرین کی امداد کے لیے جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کی کانفرنس نیویارک میں بلا لی ہے۔ اقوام متحدہ نے امداد دینے والے دوسرے ملکوں کی ایک کانفرنس بلانے کی بھی تجویز پیش کی ہے۔

سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ انہیں افسوس ہے کہ اقوام متحدہ برما کےطوفان سے متاثرہ افراد تک امداد تک پہنچانے کی بجائے اسے امداد کا بندوبست کرنا پڑ رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اگرچہ برما کے حکمرانوں نے کچھ نرمی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن یہ نرمی انتہائی ناکافی ہے۔

برما کی حکومت غیر ملکی امداد دینے والوں ملک کے کچھ علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے اہلکار جان ہومز نے کہا کہ اگرچہ برما کی حکومت نے ایک سو عالمی امدادی کارکنوں کو برما میں جانے کی اجازت دی ہے لیکن ان کو رنگون سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

برما کی حکومت نے عالمی امدادی کارکنوں کے علاوہ پڑوسی ممالک چین، بنگلہ دیش اور بھارت سے ایک سو ساٹھ امدادی کارکنوں کو ملک میں آنے کی اجازت دی ہے۔

بدھ کے روز تھائی لینڈ کے وزیر اعظم سمک سندراوج نے برما کا دورہ کیا اور برما کے حکمرانوں کو عالمی امداد حاصل کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کی لیکن برما کے حکمران کا موقف ہے کہ انہیں عالمی امداد کی ضرورت نہیں ہے۔

تھائی لینڈ کے وزیر اعظم نے کہا کہ برمی حکمران سمجھتے ہیں کہ ان کو بیرونی امداد کی ضرورت نہیں ہے اور وہ طوفان سے پیدا ہونے صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

برما میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ طوفان سے متاثرہ لوگوں کو ملنے والی امداد انتہائی ناکافی ہے اور لوگ خوراک کے حصول کے لیے لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

یونیسف کا کہنا ہے کہ برما میں پچاسی فیصد سکول طوفان سے متاثر ہو چکے ہیں اور ان عارضی سکول بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد