یو این کی امداد برما پہنچ گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سمندری طوفان سے قریباً تئیس ہزار افراد کی ہلاکت کے چار دن گزرنے کے بعد برما کی فوجی حکومت نے اقوامِ متحدہ کی پہلی امدادی پرواز کو اترنے کی اجازت دے دی ہے۔ امدادی پروازوں میں تاخیر کی وجہ برمی حکومت کی جانب سے عالمی امداد قبول کرنے میں پس و پیش سے کام لینا تھا جس سے عالمی سطح پر تشویش پیدا ہوگئی تھی۔ تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ اسے سمندری طوفان’نرگس‘ سے متاثرہ برمی علاقے میں امداد پہنچانے کی تاحال اجازت نہیں ملی ہے۔ تھائی لینڈ میں امریکہ کے سفیر کا کہنا ہے کہ تاحال یہ واضح نہیں کہ یہ کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے یا برما کی فوجی حکومت نے اس حوالے سے اپنا فیصلہ بدل لیا ہے۔اس سے قبل یہ کہا گیا تھا کہ برما کی فوجی حکومت نے امریکی فوجی طیاروں کو امداد پہنچانے کی اجازت دے دی ہے۔ اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک کے ترجمان پال رزلے نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا تھا کہ ’یہ امر پریشان کن ہے کہ انتہائی ضروری غذائی امداد کو روکا جا رہا ہے‘۔ جنوب مشرقی ایشیا کی علاقائی تنظیم آسیان نے بھی برما کی فوجی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ امدادی پروازوں کو ملک میں داخلے کی اجازت دے اس سے قبل’کہ بہت دیر ہو جائے‘۔ ادھر برما میں ایک امریکی سفارت کار نے کہا ہے ملک کے جنوب میں بہت زیادہ تباہی ہوئی ہے اور طوفان سے ایک لاکھ افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برما کے جنوب میں تقریباً تمام عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔
’نرگس‘ نامی اس سمندری طوفان سے ہونے والی تباہی کے نتیجے میں لاکھوں افراد بےگھر ہو چکے ہیں جبکہ چالیس ہزار سے زیادہ تاحال لاپتہ ہیں۔ جنوبی برما میں موجود بی بی سی کے نمائندے پال ڈینہر نے حالات کو’خوفناک‘ قرار دیا ہے۔ امدادی کارکنوں کے مطابق علاقے میں لاشوں کے انبار لگے ہوئے ہیں اور زندہ بچ جانے والے افراد کے مابین خوراک اور پانی کے حصول کے لیے لڑائیاں ہو رہی ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق برمی فوج متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائی میں مصروف تو ہے لیکن اس کی سرگرمیاں محدود اور ناکافی ہیں۔ برما میں امریکی سفارت خانے کی سربراہ نے کہا کہ صورتِ حال انتہائی مخدوش ہے اور اصل خطرہ یہ ہے کہ بچ جانے والے لوگ اب بیماریوں کی زد میں آ جائیں گے۔ عینی شاہدین کہتے ہیں کہ لوگ بھوکے اور پیاسے ہیں اور انہیں بیماریاں لاحق ہونے کا شدید خطرہ ہے، سڑکیں اور پُل بند ہیں اور امداد پہنچنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ |
اسی بارے میں برما:’ایک لاکھ ہلاکتوں کا خدشہ‘ 07 May, 2008 | آس پاس برما: امداد پہنچنا شروع ہوگئی07 May, 2008 | آس پاس برما فوری امداد کی ضرورت07 May, 2008 | آس پاس برما: طوفان سے سینکڑوں ہلاک04 May, 2008 | آس پاس ’جنتا امدادی کاموں میں رکاوٹ‘05 May, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||