BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 May, 2008, 07:43 GMT 12:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یو این کی امداد برما پہنچ گئی
برما
سمندری طوفان کے نتیجے میں لاکھوں افراد بےگھر ہو چکے ہیں
سمندری طوفان سے قریباً تئیس ہزار افراد کی ہلاکت کے چار دن گزرنے کے بعد برما کی فوجی حکومت نے اقوامِ متحدہ کی پہلی امدادی پرواز کو اترنے کی اجازت دے دی ہے۔

امدادی پروازوں میں تاخیر کی وجہ برمی حکومت کی جانب سے عالمی امداد قبول کرنے میں پس و پیش سے کام لینا تھا جس سے عالمی سطح پر تشویش پیدا ہوگئی تھی۔

تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ اسے سمندری طوفان’نرگس‘ سے متاثرہ برمی علاقے میں امداد پہنچانے کی تاحال اجازت نہیں ملی ہے۔ تھائی لینڈ میں امریکہ کے سفیر کا کہنا ہے کہ تاحال یہ واضح نہیں کہ یہ کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے یا برما کی فوجی حکومت نے اس حوالے سے اپنا فیصلہ بدل لیا ہے۔اس سے قبل یہ کہا گیا تھا کہ برما کی فوجی حکومت نے امریکی فوجی طیاروں کو امداد پہنچانے کی اجازت دے دی ہے۔

اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک کے ترجمان پال رزلے نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا تھا کہ ’یہ امر پریشان کن ہے کہ انتہائی ضروری غذائی امداد کو روکا جا رہا ہے‘۔ جنوب مشرقی ایشیا کی علاقائی تنظیم آسیان نے بھی برما کی فوجی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ امدادی پروازوں کو ملک میں داخلے کی اجازت دے اس سے قبل’کہ بہت دیر ہو جائے‘۔

ادھر برما میں ایک امریکی سفارت کار نے کہا ہے ملک کے جنوب میں بہت زیادہ تباہی ہوئی ہے اور طوفان سے ایک لاکھ افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برما کے جنوب میں تقریباً تمام عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔

طوفان سے پہلے اور بعد کی سیٹلائٹ تصاویر

’نرگس‘ نامی اس سمندری طوفان سے ہونے والی تباہی کے نتیجے میں لاکھوں افراد بےگھر ہو چکے ہیں جبکہ چالیس ہزار سے زیادہ تاحال لاپتہ ہیں۔

جنوبی برما میں موجود بی بی سی کے نمائندے پال ڈینہر نے حالات کو’خوفناک‘ قرار دیا ہے۔ امدادی کارکنوں کے مطابق علاقے میں لاشوں کے انبار لگے ہوئے ہیں اور زندہ بچ جانے والے افراد کے مابین خوراک اور پانی کے حصول کے لیے لڑائیاں ہو رہی ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق برمی فوج متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائی میں مصروف تو ہے لیکن اس کی سرگرمیاں محدود اور ناکافی ہیں۔

برما میں امریکی سفارت خانے کی سربراہ نے کہا کہ صورتِ حال انتہائی مخدوش ہے اور اصل خطرہ یہ ہے کہ بچ جانے والے لوگ اب بیماریوں کی زد میں آ جائیں گے۔ عینی شاہدین کہتے ہیں کہ لوگ بھوکے اور پیاسے ہیں اور انہیں بیماریاں لاحق ہونے کا شدید خطرہ ہے، سڑکیں اور پُل بند ہیں اور امداد پہنچنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔

برما میں تباہی: آپ کی تصاویرآپ کی تصاویر
رنگون کے اطراف تباہی کا حال
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد