برما: طوفان سے سینکڑوں ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برما کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ملک ميں آنے والے سمندری طوفان سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 350 تک پہنچ گئی ہے جبکہ ہزاروں عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ایک سو نوے کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے آنے والے اس طوفان نے ملک کے ایراوڈی، رنگون، باگو اور مون علاقے میں زبردست تباہی مچائی ہے۔ فوج اور پولیس کے اہلکار امدادی کاروائیوں ميں مصروف ہیں جبکہ برمی حکومت نے دارالحکومت رنگون اور ایراوڈی سمیت چار علاقوں کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے۔ سمندری طوفان کا سب سے زيادہ اثر ایراوڈی طاس کے علاقے میں ہوا ہے جہاں ایک ضلع میں تین چوتھائي عمارتیں مسمار ہوگئی ہيں۔ اطلاعات ہیں کہ لبوٹا کے قصبے میں پچھہتر فیصد مکانات زمیں بوس ہو چکے ہیں جبکہ بیس فیصد مکانوں کی چھتیں تباہ ہوئیں۔ جزیرۂ ہائنجی میں پچھہتر فی صد مکانات کی چھتیں اُڑ گئی ہیں اور بیس فیصد مکانات گر گئے ہیں۔ رنگون میں بجلی اور پانی کی فراہم معطل ہے، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی لائنیں منقطع ہوگئی ہيں اور گلیاں ملبے سے بھری پڑی ہيں۔ ٹیلیفونک رابطے منقطع ہونے کے سبب نقصانات کے اصل تخمینے کا اندازہ لگانے ميں مشکلات کا سامنا ہے۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق رنگون کی بندرگاہ میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ چار کشتیاں بھی ڈوب گئی ہیں۔ اقوام متحدہ کے پروگرام برائے خوراک کے انتھونی کریگ کا کہنا ہے کہ رنگون میں پکی عمارتوں کو پنچنے والے نقصان سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دوسرے علاقوں میں نقصان زیادہ ہوا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ادارہ لوگوں کو امداد پہنچانے کے لیے تیار ہے اور ان کے پاس اپنے جہاز موجود ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت تک امدادی کارروائیاں شروع نہیں کر سکتے جب تک کہ برما کی حکومت ان سے امداد کی درخواست نہ کرے۔ رنگون میں برما کے ایک باشندے یوزانا پلازا کا کہنا ہے کہ’ سب کچھ بکھر گيا، گھروں کے چھتیں اور ڈش اینٹینا اڑ گئے، کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور سڑکوں سے بل بورڈ اکھڑ کر کہیں دور جا گرے ہيں‘۔ ’نرگس‘ نامی یہ طوفان اب تھائی لینڈ کی جانب مڑ گيا ہے جہاں طوفان کی آمد سے پہلے ہی لوگوں کو خبردار کردیا گيا ہے۔ حالانکہ طوفان کے کمزور پڑنے کی اطلاع ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||