BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 September, 2004, 12:41 GMT 17:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طوفان: جمائکہ میں ہنگامی حالات
گرینیڈا کے نوے فیصد علاقے میں تباہ کا عالم ہے
گرینیڈا کے نوے فیصد علاقے میں تباہ کا عالم ہے
جمائکہ میں حالیہ عشروں کا سب سے خطرناک سمندری طوفان آنے کے سبب پورا علاقہ تند و تیز بارشوں اور آندھیوں کی زد میں ہے۔

اطلاعات کے مطابق سات میٹر بلند لہریں ساحل سے ٹکرا رہی ہیں، گھر سیلاب کی زد میں ہیں، سڑکوں سے گزرنا محال ہو گیا ہے، درخت اکھڑ گئے ہیں اور گھروں کی چھتیں اڑ گئی ہیں۔

بجلی گھر بند ہو گئے ہیں۔ ہزاروں لوگ محفوظ مقامات کی طرف جا رہے ہیں۔

حکومت نے ملک میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی ہے۔

لگ بھگ پانچ لاکھ لوگوں کو ساحلی علاقے خالی کرکے محفوظ مقامات پر پہنچانے کی کوششیں پہلے ہی سے جاری ہیں۔ وزیراعظم پی جے پیٹرسن نے کہا تھا: ’ہمیں بدترین صورتحال کے لئے تیار رہنا ہوگا۔‘

اس سمندری طوفان کا نام ’آئیوان دی ٹیریبل‘ رکھا گیا ہے اور یہ دو سو تیس کیلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے جمائکہ اور کیوبا کی جانب بڑھ رہا تھا۔

امریکی نیشنل ہریکین سنٹر کے مطابق پیر کی صبح جب یہ طوفان کِنگسٹن کے جنوب مشرق میں تھا تو اس وقت اس کی رفتار چار سو پانچ کیلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔

لیکن بعد میں اس کی رفتار گھٹ کر بیس کیلومیٹر فی گھنٹہ ہوگئی تھی۔ سمندری طوفانوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس کی رفتار میں کمی آئی ہے تاہم شام تک اس میں شدت آسکتی ہے۔

طوفان کی رفتار چارسو کیلومیٹر فی گھنٹے سے بھی تجاوز کرگئی
طوفان کی رفتار چارسو کیلومیٹر فی گھنٹے سے بھی تجاوز کرگئی

ہسپتالوں کو الرٹ پر رکھا گیا تھا اور سکولوں، دکانوں اور ہوائی اڈوں کو بند کردیا گیا تھا۔ حکومت نے لوگوں کے لئے ہنگامی قیام گاہیں قائم کی ہیں۔

حکومت نے کہا ہے کہ اگر لوگوں نے لوٹ مار کی تو حالات پر قابو پانے کے لئے فوج اور پولیس کا استعمال کیا جائے گا۔

گزشتہ سولہ برسوں میں جمائکہ میں آنیوالا یہ پہلا سمندری طوفان ہے اور نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نصف صدی میں اس سے خطرناک طوفان یہاں نہیں آیا۔ جمائکہ کے بعد یہ طوفان کیوبا اور امریکہ کی جانب بڑھے گا۔

امریکہ کی ساحلی ریاست فلوریڈا میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا جارہا ہے۔ ریاست فلوریڈا میں گزشتہ ماہ دو شدید سمندری طوفان آئے تھے جس کی وجہ سے کافی تباہی پھیل گئی تھی۔

وینیزوئیلا، ڈومینیکن ریپبلک میں پیر کے طوفان کی وجہ سے کئی لوگ مارے گئے ہیں جبکہ اس سے زیادہ تباہی گرینیڈا میں ہوئی جہاں دارالحکومت کِنگسٹن میں اس کی رفتار دو سو کیلومیٹر فی گھنٹے تھی اور شہر کے ہنگامی مرکز، مرکزی جیل، اور ہسپتال تباہ ہوگئے۔ برطانوی بحریہ متاثرہ لوگوں کی مدد کر رہی ہے۔

گرینیڈا کے وزیراعظم کیتھ میشیل نے جن کی سرکاری رہائش گاہ تباہ ہوگئی، کہا ہے کہ یہ جزیرہ نوے فیصدی تباہ ہوگیا ہے اور انہوں نے اسے قومی المیہ قرار دیا ہے۔ وزیراعظم میشیل اس وقت ایک برطانوی بحریہ کے جہاز پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔

کنگسٹن میں واقع سترہویں صدی کی جیل سے قیدی فرار ہوگئے ہیں جن میں بائیں بازو کے وہ سیاست دان بھی ہیں جن کی وجہ سے امریکہ نے انیس سو تراسی میں گرینیڈا پر چڑھائی کردی تھی۔ ہر طرف لاقانونیت ہے اور وسیع پیمانے پر لوٹ کی اطلاعات ہیں۔

News image
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد