برما:’ایک لاکھ ہلاکتوں کا خدشہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برما میں سمندری طوفان سے بائیس ہزار سے زیادہ افراد کی ہلاکت کے بعد حکومت کی طرف سے بیرونی امداد قبول کرنے میں پس وپیش پر عالمی برادری کی تشویش بڑھ گئی ہے۔ ادھر برما میں ایک امریکی سفارت کار نے کہا ہے ملک کے جنوب میں بہت زیادہ تباہی ہوئی ہے اور طوفان سے ایک لاکھ افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برما کے جنوب میں تقریباً تمام عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔ خود برمی حکام کہہ رہے ہیں کہ خدشہ ہے کہ صرف ایک ضلع لیبوٹا میں اسی ہزار افراد ہو گئے ہوں گے۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ توقع ہے کہ برما کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے ایک چار رکنی ٹیم آج برما پہنچے گی۔ دریں اثناء فرانس کے وزیرِ خارجہ برنرڈ کؤچر نے تجویز پیش کی ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل ایک قرارداد منظور کر کے برما کو بین الاقوامی امداد قبول کرنے پر مجبور کرے۔ برما میں امریکی سفارت خانے کی سربراہ نے کہا کہ صورتِ حال انتہائی مخدوش ہے اور اصل خطرہ یہ ہے کہ بچ جانے والے لوگ اب بیماریوں کی زد میں آ جائیں گے۔ برما میں کچھ بیرونی امداد پہنچی ہے لیکن اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اب بھی امدادی اداروں کے لیے وہاں امداد پہنچانے میں بڑی مشکلات ہیں۔
برما کی حکمراں فوجی جنتا نے باہر کی کچھ امداد کی منظوری دی ہے جبکہ دیگر جگہوں سے ایسی پیشکش قبول نہیں کی گئی اور امدادی کارکنوں کو ویزا حاصل کرنے کے لیے قطاریں لگانی پڑ رہی ہیں۔ عینی شاہد کہتے ہیں کہ لوگ بھوکے اور پیاسے ہیں اور انہیں بیماریاں لاحق ہونے کا شدید خطرہ ہے۔ سڑکیں اور پُل بند ہیں اور امداد پہنچنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ سمندری طوفان سے ایک لاکھ کے قریب افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ چالیس ہزار سے زیادہ لاپتہ ہیں امریکی سفارت کار نے غیر سرکاری تنظیم کے حوالے سے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ میانمار میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ ایراوادی ڈیلٹا کے علاقے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دس لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے جو برما میں انتہائی سختی کے باوجود داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں اطلاع دی ہے کہ حکومت کو متاثرہ لوگوں کو امداد مہیا کرنے سے زیادہ یہ فکر ہے کہ کس طرح خبروں کو روکا جائے۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کے امدادی ادارے متاثرہ لوگوں کو امداد مہیا کرنے کے لیے برما کی فوجی حکومت سے بات چیت کر رہے ہیں۔
برما میں بین الاقوامی امدای اداروں کی کارروائیاں محدود ہیں لیکن اس قدرتی آفت کے بعد حکومت کے رویے میں نرمی آنے کے اشارے مل رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے قدرتی آفت سے نمٹنے کے ادارے کے ترجمان رچرڈ ہورسے نے کہا ہے کہ برما کی حکومت نے امدادی اداروں کے اہلکاروں کو رضاکاروں کو ویزا جاری کرنے کے لیے وزیر خارجہ میونگ مینک کو مقرر کیا ہے۔ انہوں نے فرانسیسی خبررساں ادارے کو بتایا کہ کابینہ کے کسی رکن کو یہ کام سونپ دینے سے امید ہے کہ اب اس سلسلے میں پیش رفت میں آسانی پیدا ہو جائے گی۔ جنیوا سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق برما نے امدادی اشیاء لیے جانے والی پروازوں کی اجازت دے دی ہے۔ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے کوآرڈینیٹر کا کہنا ہے کہ برما کا ڈیلٹا ایریا سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں لوگوں کو ہنگامی بنیادوں پر امداد چاہیے۔ انہوں نے برما پر زور دیا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے لیے ویزے کی پابندیاں نرم کردے۔ |
اسی بارے میں برما: طوفان سے سینکڑوں ہلاک04 May, 2008 | آس پاس ’جنتا امدادی کاموں میں رکاوٹ‘05 May, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||