’جنتا امدادی کاموں میں رکاوٹ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے امدادی کارکنوں نے کہا ہے کہ وہ سمندری طوفان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں امدادی سامان پہنچانے کو تیار ہیں لیکن ابھی تک برما کی فوجی حکومت نے انہیں امدادی کاموں کے لیے متاثرہ علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دی ہے۔ برما کے سرکاری حکام کے مطابق ملک ميں آنے والے سمندری طوفان سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 350 تک پہنچ گئی ہے جبکہ ہزاروں عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ایک سو نوے کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے آنے والے اس طوفان نے ملک کے ایراوڈی، رنگون، باگو اور مون علاقے میں زبردست تباہی مچائی ہے۔ برما کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ملک کے ایک جزیرے میں سمندری طوفان اور سیلاب کی وجہ سے نوے ہزار افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ فوج اور پولیس کے اہلکار امدادی کاروائیوں ميں مصروف ہیں جبکہ برمی حکومت نے دارالحکومت رنگون اور ایراوڈی سمیت چار علاقوں کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے ریجنل سربراہ ترجے سکاوڈال نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کے ادارے کو امید ہے کہ وہ جلد امدادی سامان متاثرہ علاقوں میں پہنچا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ برما کے سماجی بھلائی کے نائب وزیر نے عندیہ دیا ہے کہ بین الاقوامی امداد کو خوشدلی سے قبول کیا جا ئے گا۔ سمندری طوفان کا سب سے زيادہ اثر ایراوڈی طاس کے علاقے میں ہوا ہے جہاں ایک ضلع میں تین چوتھائي عمارتیں مسمار ہوگئی ہيں۔ اطلاعات ہیں کہ لبوٹا کے قصبے میں پچھہتر فیصد مکانات زمیں بوس ہو چکے ہیں جبکہ بیس فیصد مکانوں کی چھتیں تباہ ہوئیں۔ جزیرۂ ہائنجی میں پچھہتر فی صد مکانات کی چھتیں اُڑ گئی ہیں اور بیس فیصد مکانات گر گئے ہیں۔ رنگون میں بجلی اور پانی کی فراہم معطل ہے، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی لائنیں منقطع ہوگئی ہيں اور گلیاں ملبے سے بھری پڑی ہيں۔ ٹیلیفونک رابطے منقطع ہونے کے سبب نقصانات کے اصل تخمینے کا اندازہ لگانے ميں مشکلات کا سامنا ہے۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق رنگون کی بندرگاہ میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ چار کشتیاں بھی ڈوب گئی ہیں۔ اقوام متحدہ کے پروگرام برائے خوراک کے انتھونی کریگ کا کہنا ہے کہ رنگون میں پکی عمارتوں کو پنچنے والے نقصان سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دوسرے علاقوں میں نقصان زیادہ ہوا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ادارہ لوگوں کو امداد پہنچانے کے لیے تیار ہے اور ان کے پاس اپنے جہاز موجود ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت تک امدادی کارروائیاں شروع نہیں کر سکتے جب تک کہ برما کی حکومت ان سے امداد کی درخواست نہ کرے۔ رنگون میں برما کے ایک باشندے یوزانا پلازا کا کہنا ہے کہ’ سب کچھ بکھر گيا، گھروں کے چھتیں اور ڈش اینٹینا اڑ گئے، کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور سڑکوں سے بل بورڈ اکھڑ کر کہیں دور جا گرے ہيں‘۔ ’نرگس‘ نامی یہ طوفان اب تھائی لینڈ کی جانب مڑ گيا ہے جہاں طوفان کی آمد سے پہلے ہی لوگوں کو خبردار کردیا گيا ہے۔ حالانکہ طوفان کے کمزور پڑنے کی اطلاع ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||