برما: امداد پہنچنا شروع ہوگئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برما میں سمندری طوفان’نرگس‘ سے پھیلنے والی تباہی کے بعد متاثرہ علاقے میں عالمی امداد پہنچنا شروع ہوگئی ہے۔ اتوار کو آنے والے اس سمندری طوفان سے ایراودی ڈیلٹا سمیت مغربی برما میں بائیس ہزار سے زائد افراد ہلاک جبکہ دس لاکھ افراد بےگھر ہو گئے ہیں۔ طوفان کے بعد اب تک اکتالیس ہزار افراد لاپتہ ہیں۔ اس طوفان سے متاثر ہونے والے لاکھوں افراد کو بیماریوں اور خوراک کی قلت کا سامنا ہے اور اقوامِ متحدہ اور برما کے ہمسایہ ممالک نے امدادی اشیاء سے بھرے طیارے علاقے میں بھیجے ہیں۔ اقوام متحدہ کے شعبۂ انسانی امداد کے سربراہ جان ہومز نے کہا ہے کہ یہ بحران ایک ’بڑی آفت‘ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چوبیس ممالک نے اب تک برما کے لیے پندرہ ملین پاؤنڈ امداد کا وعدہ کیا ہے اور جمعہ کو نقصان کے ابتدائی اندازے کے بعد امداد کی ایک اور اپیل کی جائے گی۔ جان ہومز کا یہ بھی کہنا تھا کہ امدادی اداروں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور اگر برمی حکومت ویزا اور کسٹم معاملات میں نرمی برتے تو یہ عمل تیز ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برمی حکام کی جانب سے تعاون’ صحیح سمت میں بڑھ رہا ہے‘۔ بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے جو برما میں انتہائی سختی کے باوجود داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں اطلاع دی ہے کہ حکومت کو متاثرہ لوگوں کو امداد مہیا کرنے سے زیادہ یہ فکر ہے کہ کس طرح خبروں کو روکا جائے۔ |
اسی بارے میں برما فوری امداد کی ضرورت07 May, 2008 | آس پاس 22000 ہلاک، ہولناک مناظر، الم ناک حالات06 May, 2008 | آس پاس برما: ہلاکتیں بائیس ہزار تک پہنچ گئیں05 May, 2008 | آس پاس ’جنتا امدادی کاموں میں رکاوٹ‘05 May, 2008 | آس پاس برما: طوفان سے سینکڑوں ہلاک04 May, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||