22000 ہلاک، ہولناک مناظر، الم ناک حالات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برما میں تباہ کن طوفان کے بعد جس میں 22000 افراد سے زیادہ ہلاک ہوگئے ہیں اور چالیس ہزار سے زیادہ لاپتہ ہیں، اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ بچ جانے والے لاکھوں افراد کو امداد کی اشد ضرورت ہے۔ ریاستی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ اب تک 22464 افراد مصدقہ طور پر ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 41054 افراد لاپتہ ہیں۔ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے کوآرڈینیٹر کا کہنا ہے کہ برما کا ڈیلٹا ایریا سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں لوگوں کو ہنگامی بنیادوں پر امداد چاہیے۔ انہوں نے برما پر زور دیا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے لیے ویزے کی پابندیاں نرم کردے۔ ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اسے برما میں خوراک کی قلت کی فکر ہے۔تنظیم کا کہنا ہے سمندری طوفان نے وہ تباہی مچاہی ہے جو بیان سے باہر ہے۔ برما میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ رنگون تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔
امدادی اداروں نے برما میں ایک بڑا امدادی آپریشن شروع کر دیا ہے اور لوگوں کو صاف پانی اور پناہ فراہم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ادھر برما کی حکومت پر اس بحران سے نمٹنے کے طریقۂ کار کی وجہ سے تنقید کی جا رہی ہے۔ برما کے کئی شہریوں اور کچھ غیر ملکیوں کا کہنا ہے کہ ملک کے فوجی حکمرانوں نے انہیں طوفان کے بارے میں مناسب انداز میں پیشگی خبردار نہیں کیا۔ کچھ عینی شاہدوں کے مطابق سمندری طوفان سے مچنے والی تباہی کے بعد حکومت کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات سست رفتار اور ناکافی ہیں۔
امریکی صدر جارج بش نے برما کی فوجی حکومت سے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک میں امریکی امداد آنے پر قدغن نہ لگائے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ صورتِ حال کو قابو میں لانے اور لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے اپنی بحریہ کے ذریعے مدد فراہم کرنے پر تیار ہے۔لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ فوجی حکمران امریکی ماہرین کی ٹیموں کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دیں۔ فرانس کے وزیرِ خارجہ برنرڈ کؤچر کا کہنا ہے کہ ان کا ملک برما کی لیے مختص مالی امداد میں کمی کر رہا ہے کیونکہ برما کے حکام لوگوں میں خود فنڈ تقسیم کرنے پر بضد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فرانس کو برما کے حکام کے ذریعے فنڈ تقسیم کرنے کے عمل پر بھروسہ نہیں۔
ادھر ریاستی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ اب تک 22464 افراد مصدقہ طور پر ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 41054 افراد لاپتہ ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سمندری طوفان سے پیدا ہونے والی موج بارہ فٹ اونچی تھی اور وہ ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لیتی چلی گئی۔ لاتعداد دیہات پانی میں ڈوب گئے اور لوگوں کو بھاگ کر جان بچانے کا موقع بھی نہیں مل سکا۔ لبوتا میں ایک ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ آدھا شہر صفحۂ ہستی سے مٹ گیا ہے جبکہ درجنوں دیہات پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ امریکی ادارے کی طرف سے جاری کی جانے والی سیٹلائٹ تصویروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کا سارے کا سارا ساحلی علاقہ زیرِ آب ہے، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ گئی ہیں، بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے اور گھر زمین دوز ہو گئے ہیں۔ ورلڈ وژن نامی امدادی ادارے نے جسے برما میں کام کرنے کی اجازت ہے کہا ہے کہ ہر طرف ہولناک مناظر ہیں، جگہ جگہ لاشیں پڑی ہیں اور زندہ بچ جانے والوں کے لیے پانی دستیاب ہے نہ پناہ گاہ۔
ایک سو نوے کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے آنے والے اس طوفان نے ملک کے ایراوڈی، رنگون، باگو اور مون علاقے میں زبردست تباہی مچائی ہے۔ برما کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ملک کے ایک جزیرے میں سمندری طوفان اور سیلاب کی وجہ سے نوے ہزار افراد بےگھر ہوگئے ہیں۔ سمندری طوفان کا سب سے زيادہ اثر ایراوڈی طاس کے علاقے میں ہوا ہے جہاں ایک ضلع میں تین چوتھائي عمارتیں مسمار ہوگئی ہيں۔ اطلاعات ہیں کہ لبوٹا کے قصبے میں پچہتر فیصد مکانات زمیں بوس ہو چکے ہیں جبکہ بیس فیصد مکانوں کی چھتیں تباہ ہوئیں۔ جزیرۂ ہائنجی میں پچہہتر فی صد مکانات کی چھتیں اُڑ گئی ہیں اور بیس فیصد مکانات گر گئے ہیں۔
رنگون میں بجلی اور پانی کی فراہم معطل ہے، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی لائنیں منقطع ہوگئی ہيں اور گلیاں ملبے سے بھری پڑی ہيں۔ ٹیلیفونک رابطے منقطع ہونے کے سبب نقصانات کے اصل تخمینے کا اندازہ لگانے ميں مشکلات کا سامنا ہے۔ |
اسی بارے میں برما: طوفان سے سینکڑوں ہلاک04 May, 2008 | آس پاس ’جنتا امدادی کاموں میں رکاوٹ‘05 May, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||