BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 May, 2008, 11:14 GMT 16:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برما: ہلاکتیں بائیس ہزار تک پہنچ گئیں
برما
لاکھوں گھر تباہ ہو گئے ہیں

برما میں سمندری طوفان کے سبب مرنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور برما کے سرکاری ٹیلیوژن کی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اب تک بائیس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

برما کے وزیرِ خارجہ نیان وِن نے کہا ہے بوگالے کے قصبے میں جو برما کے بڑے شہر سے سو کلو میٹر دور واقع ہے، دس ہزار افراد لقمۂ اجل بن گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکام ابھی تک نقصان کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہوں نے خبردار کیا کہ مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔


ادھر امریکہ نے برما سے کہا ہے کہ وہ اس کی طرف سے امداد قبول کر لے۔
امریکی خاتونِ اول لارا بش نے برما سے مدد قبول کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ہنگامی امداد کے لیے 250000 ڈالر کی رقم مختص کی ہے۔

طوفان سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں جنہیں امدادی اشیاء پہنچنا شروع ہوگئی ہیں لیکن اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ متاثرین کو پینے کے پانی، خیموں اور غذائی امداد کی اشد ضرورت ہے۔

وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کا ملک متاثررین کے لیے عالمی امداد قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔

اس سے پہلے برما کی سرکاری میڈیا کا کہنا تھا کہ نرگس نامی طوفان سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چار ہزار ہو چکی ہے جبکہ صحیح تعداد زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ شروع میں ہلاکتوں کی تعداد 350 بتائی گئی تھی۔ برما کی حکومت کے مطابق طوفان نے پانچ علاقوں کو متاثرہ قرار دیا ہے جن میں دو کروڑ چالیس لاکھ لوگ بستے ہیں۔

برما کے حکام اور عالمی امدادی ادارے سمندری طوفان سے ہونے والی تباہی کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پیر کو تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینک کاک میں اقوام متحدہ اور دیگر امدادی اداروں کا ایک اجلاس ہو رہا ہے تاکہ امدادی کارروائیوں میں ہم آہنگی لائی جاسکے۔

اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے ریجنل سربراہ ترجے سکاوڈال نے کہا ہے کہ طوفان سے ہونے والی تباہی کا اندازہ لگانے میں ابھی وقت لگے۔ انہوں نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا: ’ہر کسی کی طرح حکومت کو بھی حالات کا صحیح اندازے لگانے میں مشکل کا سامنا ہے۔‘

ترجے سکاوڈال نے بتایا کہ طوفان سے تباہ ہونے والی سڑکیں بند ہیں اور متعدد گاؤں متاثر ہوئے ہیں جہاں پہنچنے میں وقت لگے گا۔

برما میں غیرملکی امدادی کارکنوں کی نقل و حرکت پر فوجی حکومت کی جانب سے متعدد پابندیاں ہیں جس کی وجہ سے امدادی کام صرف مقامی عملے کے ذمے ہے۔ ترجے سکاوڈال نے کہا کہ اقوام متحدہ برما کی حکومت کے ساتھ بات کرے تاکہ متاثرین تک امدادی کارکنوں کی رسائی ممکن بنائی جاسکے۔

 عالمی امدادی ادارے ریڈ کراس نے کہا کہ اس کی ٹیمیں ایراوڈی کے علاقے میں پانی، کمبل اور دیگر ضروری اشیاء پہپنچانا شروع کردی ہیں۔ ریڈکراس کے ترجمان مائیکل انیئر نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ جتنا جلد ہوسکا وہ امداد لیکر گئے لیکن ملبے اور بجلی کے کھمبے گرنے سے امدادی کارکنوں کی نقل و حرکت محدود ہے۔
دریں اثناء عالمی امدادی ادارے ریڈ کراس نے کہا کہ اس کی ٹیمیں ایراوڈی کے علاقے میں پانی، کمبل اور دیگر ضروری اشیاء پہپنچانا شروع کردی ہیں۔ ریڈکراس کے ترجمان مائیکل انیئر نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ جتنا جلد ہوسکا وہ امداد لیکر گئے لیکن ملبے اور بجلی کے کھمبے گرنے سے امدادی کارکنوں کی نقل و حرکت محدود ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مقامی لوگ اور حکومتی اہلکار سڑکوں سے ملبے ہٹا رہے ہیں تاکہ امداد پہنچائی جاسکے۔ تاہم اقوام متحدہ کے امدادی کارکنوں نے بتایا ہے کہ ابھی تک برما کی فوجی حکومت نے انہیں امدادی کاموں کے لیے متاثرہ علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دی ہے۔

ایک سو نوے کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے آنے والے اس طوفان نے ملک کے ایراوڈی، رنگون، باگو اور مون علاقے میں زبردست تباہی مچائی ہے۔ برما کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ملک کے ایک جزیرے میں سمندری طوفان اور سیلاب کی وجہ سے نوے ہزار افراد بےگھر ہوگئے ہیں۔

سمندری طوفان کا سب سے زيادہ اثر ایراوڈی طاس کے علاقے میں ہوا ہے جہاں ایک ضلع میں تین چوتھائي عمارتیں مسمار ہوگئی ہيں۔ اطلاعات ہیں کہ لبوٹا کے قصبے میں پچہتر فیصد مکانات زمیں بوس ہو چکے ہیں جبکہ بیس فیصد مکانوں کی چھتیں تباہ ہوئیں۔ جزیرۂ ہائنجی میں پچہہتر فی صد مکانات کی چھتیں اُڑ گئی ہیں اور بیس فیصد مکانات گر گئے ہیں۔

رنگون میں بجلی اور پانی کی فراہم معطل ہے، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی لائنیں منقطع ہوگئی ہيں اور گلیاں ملبے سے بھری پڑی ہيں۔ ٹیلیفونک رابطے منقطع ہونے کے سبب نقصانات کے اصل تخمینے کا اندازہ لگانے ميں مشکلات کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ کے پروگرام برائے خوراک کے انتھونی کریگ کا کہنا ہے کہ رنگون میں پکی عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دوسرے علاقوں میں نقصان زیادہ ہوا ہوگا۔

رنگون میں ایک مقامی باشندے یوزانا پلازا کا کہنا ہے کہ’سب کچھ بکھر گيا، گھروں کے چھتیں اور ڈش اینٹینا اڑ گئے، کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور سڑکوں سے بل بورڈ اکھڑ کر کہیں دور جا گرے ہيں۔‘

’نرگس‘ نامی یہ طوفان اب تھائی لینڈ کی جانب مڑ گيا ہے جہاں طوفان کی آمد سے پہلے ہی لوگوں کو خبردار کردیا گيا ہے۔ حالانکہ طوفان کے کمزور پڑنے کی اطلاع ہے۔

طوفان طوفان سے تباہی
بنگلہ دیش میں طوفان اور تباہی
طوفان کی تباہ کاریاں
امریکی ریاست کنساس کے قصبے میں تباہی
سمندری طوفان کی آمدپانی سےزندگی تہ و بالا
شدید سمندری طوفان سے جمائکہ کا نظام درہم برہم
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد