برما فوری امداد کی ضرورت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برما میں آنے والے نرگس طوفان کی تباہی کی اصل نوعیت سامنے آنے کے بعد عالمی امدادی اداروں نےمتاثرہ افراد کو فوری امداد مہیا کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس طوفان سے متاثر ہونے والے لاکھوں افراد کو بیماریوں اور خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔ ایراوادی ڈیلٹا کے علاقے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دس لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے جو برما میں انتہائی سختی کے باوجود داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں اطلاع دی ہے کہ حکومت کو متاثرہ لوگوں کو امداد مہیا کرنے سے زیادہ یہ فکر ہے کہ کس طرح خبروں کو روکا جائے۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کے امدادی ادارے متاثرہ لوگوں کو امداد مہیا کرنے کے لیے برما کی فوجی حکومت سے بات چیت کر رہے ہیں۔ برما میں بین الاقوامی امدای اداروں کی کارروائیاں محدود ہے لیکن اس قدرتی آفت کے بعد حکومت کے رویے میں نرمی آنے کے اشارے مل رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے قدرتی آفت سے نمٹنے کے ادارے کے ترجمان رچرڈ ہورسے نے کہا ہے کہ برما کی حکومت نے امدادی اداروں کے اہلکاروں کو رضاکاروں کو ویزا جاری کرنے کے لیے وزیر خارجہ میونگ مینک کو مقرر کیا ہے۔ انہوں نے فرانسیسی خبررساں ادارے کو بتایا کہ کابینہ کے کسی رکن کو یہ کام سونپ دینے سے امید ہے کہ اب اس سلسلے میں پیش رفت میں آسانی پیدا ہو جائے گی۔ جنیوا سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق برما نے امدادی اشیاء لیے جانے والی پروازوں کی اجازت دے دی ہے۔ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے کوآرڈینیٹر کا کہنا ہے کہ برما کا ڈیلٹا ایریا سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں لوگوں کو ہنگامی بنیادوں پر امداد چاہیے۔ انہوں نے برما پر زور دیا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے لیے ویزے کی پابندیاں نرم کردے۔ |
اسی بارے میں برما: طوفان سے سینکڑوں ہلاک04 May, 2008 | آس پاس ’جنتا امدادی کاموں میں رکاوٹ‘05 May, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||