BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 May, 2008, 01:00 GMT 06:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برما میں طوفان سے پچیس لاکھ متاثر
برما میں متاثرین
شدید متاثرہ علاقوں میں لوگ اب بھی امداد کے منتظر ہیں
اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ برما میں بارہ دن قبل آنے والے سمندری طوفان سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک اندازے کے مطابق پچیس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

اس سے قبل اقوامِ متحدہ نے کہا تھا کہ انداراً پندرہ لاکھ افراد طوفان سے متاثر ہوئے ہیں۔ طوفان کو قریباً دو ہفتے ہونے کو ہیں تاہم تاحال برما میں فوجی حکومت نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے بہت کم غیر ملکی امدادی کارکنوں کو آنے کی اجازت دی ہے۔

برما کے حکام کے مطابق اس طوفان سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تازہ ترین اعدادوشمار کے حساب سے اڑتیس ہزار پانچ سو ہے جبکہ ستائیس ہزار آٹھ سو اڑتیس تاحال لاپتہ ہیں۔ اس کے برعکس عالمی ریڈ کراس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ طوفان سے قریباً ایک لاکھ اٹھائیس ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

برما کی فوجی حکومت کی جانب سے بظاہر عدم تعاون کے باوجود اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ نے امداد کی فراہمی سے زیادہ وقت اس کے انتظام میں صرف کیا ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ اگرچہ(برمی) حکومت نے کچھ لچک کا مظاہرہ کیا ہے لیکن موجودہ حالات میں یہ بہت کم ہے‘۔

ادھر تھائی لینڈ کے رہنما سماک سندراویج نے برمی حکام سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ برما کی حکومت یہ ماننے کو تیار نہیں کہ انہیں بیرونی امداد درکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ انہوں(برمی وزیراعظم) نے اصرار کیا کہ وہ اس مسئلے سے خود ہی نمٹ سکتے ہیں‘۔

اس وقت سو کے قریب بین الاقوامی امدادی کارکن برما میں موجود ہیں

اقوامِ متحدہ نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ برمی حکام نے حفاظتی چوکیوں پر نگرانی سخت کر دی ہے تاکہ غیر ملکیوں کو ملک میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔ ادارے کے شعبۂ انسانی امداد کے سربراہ جان ہومز کے مطابق اگرچہ اس وقت سو کے قریب بین الاقوامی امدادی کارکن برما میں موجود ہیں لیکن انہیں امداد بانٹنے کے لیے ایراوڈی طاس کے شدید متاثرہ علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں۔

برما میں مقامی آبادی نے بی بی سی کی برمی سروس کو بتایا ہے کہ لوگوں نے اپنی گاڑیوں میں پانی اور اشیائے خوردونوش بھر کے متاثرہ علاقے تک لے جانے کی کوشش کی ہے تاہم فوجیوں نے یہ سامان قبضے میں لے لیا ہے۔ بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق ایک ایسے تباہ شدہ گاؤں میں جہاں چار سو میں سے صرف ایک چوتھائی مکانات باقی بچے ہیں ابھی امداد کے طور پر چاول کی صرف ایک بوری پہنچ سکی ہے۔

برماچین اور برما
دو ملک ایک سی تباہی، مختلف رد عمل
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد