برما:طوفان کے بعد بحران کا سامنا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک اہم امدادی ایجنسی کے مطابق اگر برما میں طوفان سے بچنے والوں کو فوری طور پر امداد فراہم نہ کی گئی تو انہیں شدید بحران کا سامنا ہے۔ آکسفیم کے مطابق ابھی تک اس طوفان میں ہلاک ہو نے والوں کی تعداد تقریباًایک لاکھ ہے لیکن اگر صاف پانی اور صحتِ عامہ کی سہولیات فراہم نہ کی گئیں تو یہ تعداد پندرہ لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ عالمی بچاؤ کمیٹی کا کہنا ہے کہ اگر بڑے پیمانے پر امداد مہیا نہ کی گئی تو برما میں ایک بڑا سانحہ ہو سکتا ہے۔ ریڈ کراس اور دیگر امدادی ایجنسیوں کے مطابق ہزاروں لوگ بے گھر ہیں اور انتہائی خراب حالات میں سکولوں ہسپتالوں اور بڑی بڑی عمارتوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے اندازے کے مطابق طوفان کے آٹھ دن گزرنے کے باوجود متاثرہ لوگوں میں سے صرف ایک تہائی تک ہی امداد پہنچ سکی ہے۔فوجی حکومت امداد لیجانے والےکئی غیر ملکی باشندوں کو برما جانے کی اجازت نہیں دے رہی۔ آکسفیم کی ایسٹ ایشیا ڈائریکٹر سارہ آئر لینڈ کا کہنا ہے کہ برما میں بڑہ پیمانے پر تباہی کا خطرہ ہے۔ اقوامِ متحدہ نے 96 ملین پاؤنڈز کی امداد کی اپیل کی ہے۔ادارے کا کہنا ہے کہ برما کے شدید متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر خوراک ادویات اور خیموں کی ضرورت ہے۔ اس وقت برما میں امداد تیزی سے نہیں آ رہی نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کچھ متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچ رہی ہے لیکن وہ کافی نہیں ہے۔برما کے سرکاری میڈیا کے مطابق اس طوفان میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 23،335 ہے لیکن اقوامِ متحدہ کے مطابق یہ تعداد ایک لاکھ تک ہو سکتی ہے۔ تین مئی کو آنے والے طوفان کے بعد سے ہی ملک میں پہلے سے موجود امدادی ایجنسیوں نے مقامی ذرائع سے سامان خرید کر کام کرنا شروع کر دیا تھا لیکن ان کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں مزید امداد جلدی ہی نہ پہنچی تو موجودہ سپلائی ختم ہو جائے گی۔ کرسچین ایڈ کے رے حسن کا کہنا ہے کہ وقت ہاتھوں سے نکلا جا رہا ہے کیونکہ کچھ علاقوں سے پہلے ہی بیماریاں پھیلنے کی اطلاعات موصول ہونی شروع ہو گئی ہیں۔ برما کے پڑوسی ممالک چین اور تھائی لینڈ سے امداد پہنچ رہی ہے، امریکہ سے آنے والی امداد پیر تک پہنچنے کی توقع ہے۔امدادی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ برما کی حکومت میں اتنے بڑے پیمانے پرامدای کوششوں سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں ہے اس لیے اسے غیر ملکی امدادی کارکنوں اور ماہرین کو برما میں داخل ہونے کی اجازت دینی چاہئے۔ ریڈ کراس اور دیگر امدادی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ہزاروں لوگ بے گھر ہیں اور سکولوں ہسپتالوں اور بڑی بڑی عمارتوں میں رہ رہے ہیں۔کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے دیکھا ہے کہ نئے بنائے گئے یا مرمت شدہ پمپ کام کر رہے ہیں لیکن ان عمارتوں کے ارد گرد گندہ اور بدبودار پانی موجود ہے۔ | اسی بارے میں برما:’ایک لاکھ ہلاکتوں کا خدشہ‘ 07 May, 2008 | آس پاس امداد میں رکاوٹ نہ ڈالیں: اقوامِ متحدہ10 May, 2008 | آس پاس برما: امداد بحال کرنے کا فیصلہ 09 May, 2008 | آس پاس 22000 ہلاک، ہولناک مناظر، الم ناک حالات06 May, 2008 | آس پاس برما: طوفان سے سینکڑوں ہلاک04 May, 2008 | آس پاس برما میں ریفرنڈم، امداد پر تنازع10 May, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||