برما میں ریفرنڈم، امداد پر تنازع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برما کی فوجی حکومت نے بیرونی دنیا کی ان پیلوں کو مسترد کرتے ہوئے جن میں کہا گیا تھا کہ حکومت حالیہ طوفان کے متاثرین کی مدد کرنے پر توجہ دے ملک کے ایک نئے آئین پر ریفرنڈم کرایا ہے۔ سنیچر کے روز طوفان سے متاثرہ بعض علاقوں کے علاوہ ملک میں ریفرنڈم کرایا گیا جس کا مقصد فوجی حکومت کے مطابق سن 2010 تک برما میں جمہوریت کی بحالی کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔ فوجی حکومت کے مخالفین نے ملک میں ریفرنڈم کرانے کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ برما میں فوجی حکومت کی جڑیں مضبوط کرنے کی جانب ایک قدم ہے۔ دارالحکومت رنگون اور ایراوڈی کے علاقوں میں جو حالیہ سمندری طوفان سے شدید طور متاثر ہوئے تھے، ریفرنڈم دو ہفتوں کے لیے ملتوی کرنا پڑا ہے۔ دریں اثناء اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ سمندری طوفان سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہوسکتی ہے۔ برما نے کہا ہے کہ وہ کسی ملک کی بھی امداد قبول کرنے کو تیار ہے۔
برما کے سمندری طوفان کے لیے اقوامِ متحدہ کے 187 ملین ڈالر فنڈ کے لیے اپیل جاری کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ مزید تباہی کو روکنے کے لیے فوری اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ برما کے حکمران سنیچر کو آئینی ریفرنڈم کرانے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں اور امدادی کام صرف ان علاقوں میں ہو رہا ہے جو سمندری طوفان سے شدید متاثر ہوئے ہیں، باقی مقامات پر توجہ کم ہے۔ اس سے قبل خوراک کے عالمی پروگرام نے کہا تھا کہ وہ سنیچر کو خوراک کے دو جہاز برما روانہ کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اقوام متحدہ کے اس ذیلی ادارے نے کہا کہ وہ برما کے حکام سے اس امداد کی ترسیل کے بارے میں مذاکرات جاری رکھیں گے جو برما پہنچنے پرفوج کی طرف سے قبضہ میں لے لی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے نے کہا تھا کہ برما کے حکام نے طوفان کے متاثرین کے لیے بھیجا جانے والا کئی ٹن امدادی سامان اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ خوراک کے عالمی پروگرام نے کہا تھا کہ ان کے پاس مسئلے کے حل تک امداد روکنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔
ادھر ایک سرکاری اخبار کے مطابق برما نے کہا ہے کہ اسے غیرملکیوں کی نہیں بلکہ غیرملکی امداد کی ضرورت ہے اور وہ متاثرہ علاقوں تک امداد پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں انسانی امداد کے شعبے کے سربراہ جان ہولمز نے کہا ہے کہ برما میں صورتِحال انتہائی مخدوش ہے اور یہ کہ ویزے کی پابندیاں نرم کرنے اور امداد کی ترسیل پر لگی پابندیاں اٹھانے میں برما کے حکام کی سست روی سے انہیں بہت مایوسی ہوئی ہے۔ برما میں ریاستی میڈیا کا کہنا ہے کہ اب تک 22980 افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن خدشہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔ طوفان کے بعد اب تک اکتالیس ہزار افراد لاپتہ ہیں۔ دریں اثناء امریکہ نے برما میں اجازت کے بغیر فضا سے امدادی اشیاء زمین پر پھینکے کا خیال مسترد کر دیا۔ اس سے قبل امریکی جہاز امدادی سامان لے کر برما گئے تھے لیکن انہیں وہاں اترنے کی اجازت نہیں ملی۔ |
اسی بارے میں ’ریفرنڈم کی بجائے امداد پر توجہ دیں‘08 May, 2008 | آس پاس یو این کی امداد برما پہنچ گئی08 May, 2008 | آس پاس برما:’ایک لاکھ ہلاکتوں کا خدشہ‘ 07 May, 2008 | آس پاس برما فوری امداد کی ضرورت07 May, 2008 | آس پاس 22000 ہلاک، ہولناک مناظر، الم ناک حالات06 May, 2008 | آس پاس برما: ہلاکتیں بائیس ہزار تک پہنچ گئیں05 May, 2008 | آس پاس ’جنتا امدادی کاموں میں رکاوٹ‘05 May, 2008 | آس پاس برما: طوفان سے سینکڑوں ہلاک04 May, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||